برف کے دشمن کے خلاف نیا منصوبہ
راوی:
مسٹر آئس سے بچ نکلنے کے بعد انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق اور فرزانہ ایک خفیہ غار میں چھپ گئے تھے۔ سب جان چکے تھے کہ مسٹر آئس کوئی عام دشمن نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو کسی کو بھی چند لمحوں میں برف کا مجسمہ بنا سکتی ہے۔
غار کے اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی، لیکن بچوں کی شرارتیں ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔
انسپکٹر جمشید:
"یہ مسٹر آئس ہماری سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اگر تم لوگوں نے وقت پر الگ الگ بھاگنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو آج ہم سب برف کے ٹکڑے بن چکے ہوتے۔"
محمود (ہنستے ہوئے):
"واہ! سوچیں اگر فرزانہ برف کا مجسمہ بن جاتی تو کتنا مزہ آتا۔ وہ ہمیشہ کی طرح خاموش کھڑی رہتی۔"
فرزانہ:
"اچھا؟ اور فاروق کا برف والا مجسمہ بھی میرے ساتھ کھڑا ہوتا۔ پھر تم دونوں ہمیں دیکھ کر ڈرتے رہتے۔"
فاروق:
"اپنا مجسمہ مت بھولنا محمود! تم بھی ہمارے ساتھ برف بنے ہوتے۔ پھر خوابوں میں بھی ہمیں نہیں چھیڑ سکتے تھے۔"
محمود:
"کم از کم برف بن کر بھی میں تم سب سے زیادہ خوبصورت لگتا۔"
انسپکٹر جمشید (غصے سے):
"بس کرو! اتنے خطرناک حالات میں بھی تم لوگوں کو مذاق سوجھ رہا ہے۔"
فاروق:
"بابا، فکر ناٹ! مذاق کرنا ہمارا ہنر ہے۔ ویسے 'فکر ناٹ' کسی ناول کا نام بھی ہو سکتا ہے نا؟"
فرزانہ:
"ہاں، اور اس ناول کے ہیرو ہم ہوں گے۔"
انسپکٹر جمشید:
"مجھے لگتا ہے دشمن سے پہلے مجھے تم لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔"
ولن کی جدید تلاش
راوی:
دوسری طرف مسٹر چیٹ اور مسٹر آئس اپنے خفیہ کمانڈ سینٹر میں بیٹھے تھے۔ وہاں جدید ترین مشینیں اور طاقتور کمپیوٹر موجود تھے۔
مسٹر چیٹ:
"پروجیکٹ 109 شروع کرو!"
سپر کمپیوٹر:
"حکم کی تعمیل ہو رہی ہے۔ جنگل میں موجود تمام علاقوں کی تلاش شروع کی جا رہی ہے۔"
مسٹر چیٹ:
"مجھے فوراً معلوم ہونا چاہیے کہ انسپکٹر جمشید اور وہ بچے کہاں چھپے ہیں۔"
مسٹر آئس:
"وہ زیادہ دیر تک ہم سے نہیں بچ سکتے۔ میری برفانی طاقت ان کا انجام لکھ دے گی۔"
مسٹر چیٹ:
"انسپکٹر جمشید! تم اور تمہارے بچے میری نظروں سے زیادہ دیر چھپ نہیں سکتے۔"
ڈرون کا حملہ
راوی:
غار کے اندر اچانک ایک عجیب سی آواز سنائی دی۔
فرزانہ نے فوراً کان کھڑے کیے۔
فرزانہ:
"رکو... کیا تم لوگوں نے یہ آواز سنی؟"
فاروق:
"کیا ہوا؟"
فرزانہ:
"یہ ڈرون کی آواز ہے۔ مجھے لگتا ہے مسٹر آئس نے ہمیں ڈھونڈنے کے لیے بھیجا ہے۔ ہمیں فوراً چھپنا ہوگا۔"
انسپکٹر جمشید:
"جلدی کرو! میرے پاس ایک خاص حفاظتی شیٹ ہے۔ اس کے پیچھے چھپ جاؤ، یہ ہمیں ڈرون کی نظر سے بچا سکتی ہے۔"
راوی:
سب لوگ فوراً شیٹ کے پیچھے چھپ گئے۔
کچھ ہی لمحوں بعد ڈرون غار کے قریب سے گزرا، لیکن وہ انہیں تلاش نہ کر سکا۔
مسٹر چیٹ کی ناراضی
راوی:
کمانڈ سینٹر میں کمپیوٹر نے رپورٹ دی۔
سپر کمپیوٹر:
"تلاش مکمل ہوئی۔ کوئی دشمن نہیں ملا۔"
مسٹر چیٹ (غصے سے):
"کیا؟ ناکامی؟"
مسٹر چیٹ:
"یہ لوگ اتنے سادہ نہیں جتنے میں سمجھ رہا تھا۔"
مسٹر چیٹ:
"یہ مشرق کی طرف جا رہے تھے، پھر اچانک غائب ہو گئے۔ ضرور انہوں نے کوئی خاص آلہ استعمال کیا ہے۔"
مسٹر آئس:
"چاہے وہ کہیں بھی چھپ جائیں، آخرکار انہیں میرے سامنے آنا ہی ہوگا۔"
مسٹر چیٹ:
"بالکل۔ ایک چھوٹی سی غلطی اور ان کی زندگی کی گرمی ہمیشہ کے لیے موت کی سردی میں بدل جائے گی۔"
سرور سے رابطہ
راوی:
ڈرون کے جانے کے بعد فرزانہ کی گھڑی میں ایک سگنل آنے لگا۔
فرزانہ:
"رکو! میری گھڑی پر پیغام آ رہا ہے۔ یہ سرور انکل کی کال ہے۔"
(وہ کال موصول کرتی ہے۔)
سرور:
"انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق، فرزانہ! تم سب کہاں ہو؟ کیا تم لوگ محفوظ ہو؟"
انسپکٹر جمشید:
"سرور، ہم ابھی ایک غار میں چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن مسٹر آئس بہت طاقتور ہے۔ اس کی برفانی طاقت سے بچنا بہت مشکل ہے۔"
سرور:
"مجھے سب معلوم ہو گیا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں تحقیق کی ہے۔"
سرور:
"لیکن اسے روکنے کا طریقہ جاننے کے لیے مجھے اس کی بنائی ہوئی برف کا ایک نمونہ چاہیے۔"
محمود:
"یعنی ہمیں مسٹر آئس کی برف حاصل کرنی ہوگی؟"
سرور:
"ہاں، لیکن یہ آسان نہیں ہوگا۔"
سرور:
"میں نے تمہاری گھڑیوں کو اپ گریڈ کر دیا ہے۔ اب یہ کچھ وقت کے لیے ایک حفاظتی طاقت کا حصار بنا سکتی ہیں، جو تمہیں اس کے برفانی حملوں سے بچائے گا۔"
فاروق:
"لیکن انکل، آپ رک کیوں گئے؟"
سرور:
"مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم مسٹر آئس کے حملے کتنے طاقتور ہیں۔ یہ حفاظتی حصار ہمیشہ نہیں چل سکے گا۔"
انسپکٹر جمشید:
"کوئی بات نہیں سرور۔ ہمیں خطرہ مول لینا ہوگا۔"
انسپکٹر جمشید:
"ہم اس کی برف کا نمونہ لے کر آئیں گے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی کافی ہوتا ہے، اور اس وقت یہی ہمارا بہترین موقع ہے۔"
نیا خطرناک مشن
راوی:
اب ٹیم کے سامنے ایک نیا چیلنج تھا۔
انہیں دوبارہ مسٹر آئس کے سامنے جانا تھا، لیکن اس بار لڑنے کے لیے نہیں...
بلکہ اس کی طاقت کا راز حاصل کرنے کے لیے۔
کیا محمود، فاروق اور فرزانہ مسٹر آئس کے قریب جا کر اس کی برف حاصل کر سکیں گے؟
یا مسٹر آئس انہیں ہمیشہ کے لیے برف بنا دے گا؟
جاری ہے...