ســگــھــڑ بـہـو
ساحرہ بڑی پیاری سی
لڑکی تھی اس کی شادی ایک بہت بڑے پریوار میں ہوئی تھی سائرہ کے شوہر کا نام ماہر
تھا جو کہ بڑا ہی نیک شخص تھا اور ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا وہ سائرہ سے بے حد
محبت کرتا تھا جب سے ایک شادی پر سائرہ کو دیکھا بس
اس کا دیوانہ ہو گیا اور آخرکار دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےـ
ماہر کی ماں اور سائرہ کی ساس بلقیس بی بی
تھی جو بہت ہی سخت مزاج کی تھی اور سائرہ تو اس کو ایک
آنکھ نہ بھاتی ـ
بلقیس: ارے بہو کہاں رہ گئی کب سے چلا رہی ہوں ـ
سائرہ کمرے میں آتے ہوئے
سائرہ: جی جی ماں جی آپ نے بلایا ـ
بلقیس : لو یہ دیکھو
کب سے چلا چلا کر میرا گلا بیٹھ گیا ہے اور یہ مہارانی پوچھ رہی ہے کہ اپ نے بلایا
ـ
سائرہ : جی ماں جی بولیے ـ
بلقیس : بہو اس
گھر میں ایسے نہیں چلے گا میری پہلی اواز پر تمہیں انا ہی ہوگا کہۓ دیتی ہوں ـ
بلقیس کی بات سن
کر سائرہ بیچاری خاموش
ہو گئی
سائرہ : جی ماں جی جیسا اپ کا حکم
بیچاری خاموشی کے
ساتھ جانے ہی والی تھی کہ ساس پولی بہو دیکھو شام ہونے والی ہے اس لیے جلدی سے رات
کا کھانا تیار کرو اور کھانے کے بعد یہ یاد رکھنا کہ میں چائے بھی ضرور لیتی ہوں
سائرہ جی ماں جی کہتے ہوئے
کچن میں چلی گئی اور رات کا کھانا تیار کرنے لگی رات گئے ماہر بھی گھر آ چکا تھا اور
سب نے کھانا کھایا اور پھر سائرہ نے ماں جی کو
چائے دی اور ان کے کھانے کے بعد سائرہ نے بھی کھانا کھا لیا اور پھر وہ اپنے کمرے
میں چلی گئی ـ
ماہر: سائرہ سناؤ
اج کا دن کیسا رہا
سائرہ : جی ٹھیک رہا اس نے اپنی ساس کی ڈانٹ کا ذکر
بالکل نہ کیا ـ
ماہر : اج کھانا بڑا مزیدار تھا
سائرہ : جی اج میں نے پکایا
تھا اپ کو پسند ایا تو اچھی بات ہے لیکن ماں کو پتہ نہیں پسند ایا ہوگا کہ نہیں ـ
ماہر: او ماں کو صرف اپنے ہاتھ کی چیزیں ہی پسند اتی ہیں
اور ان کی باتوں کو سننا بڑے دل گردے کی بات ہے
سائرہ : اپ فکر نہ کریں میں دیکھ لوں گی
صبح ساس کے اٹھنے
سے پہلے سائرہ نے ان کے لیے
چائے تیار کی اور پانی گرم کر کے رکھ دیا اور پھر جیسے ہی ساس نے سائرہ کو پکارا سائرہ چائے
لے کر ماں کے پاس پہنچ گئی بلقیس بیگم تو جیسے دم بخود رہ گئی ـ
بلقیس : کیا بات ہے بڑی جلدی اٹھ گئی ہو میں نے تو سوچا
شاید پھر اوازیں دینا پڑیں گی سائرہ : ماں جی اپ
کے لیے گرم پانی رکھا ہے منہ ہاتھ دھو لیں بہو کی یہ بات سن کر بلقیس بیگم دھنگ سی
رہ گئی وہ دل ہی دل میں خوش تھی کہ کتنی اچھی بہو ائی ہے لیکن پھر بھی اس سے کہا ٹھیک
ہے اب جلدی سے ناشتہ بناؤ اور ہاں ماہر کو وقت پر افس بھیجنا یہ نہ ہو کہ سویا ہی
رہ جائے ـ
سائرہ : ٹھیک ہے ماں جی
کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور پھر کچن میں مصروف ہو گئی تھوڑی دیر میں ناشتہ ریڈی
ہو گیا تھا اور ماہر بھی تیار ہو کر ناشتے کی میز پر ا بیٹھا ـ
ماہر: ماں جی کیسی ہیں اپ ـ
بلقیس : میں تو
ٹھیک ہوں تم رات کو دیر سے کیوں ائے
ماہر : بس ماں جی افس کا کام پینڈنگ تھا اسے ختم کرتے
کرتے کافی وقت گزر گیا
بلقیس : بیٹا صحت
کا بھی خیال رکھا کرو دیکھو کیسے سوکھ کر کانٹا بن گئے ہو
ماہر: جی ماں جی کیوں نہیں ـ
ماہر ناشتہ کر کے
افس چلا گیا اور سائرہ گھر کے کاموں میں لگ گئی کافی دن گزر گئے ایک دن سائرہ بیچاری
بیمار پڑ گئی اور بستر پر بخار سے تمتما رہی تھی کہ
ماہرپکارا : او
سائرہ تم بیمار ہو ماں کے ساتھ جا کر دوائی لے انا ـ
بلقیس کمرے میں
اتے ہوئے کیا بات ہے بہو کیوں لیٹی ہوئی ہو
ماہر : ماں سائرہ
بیمار ہے ماہر نے کہا
بلقیس : اوہ زیادہ
بیمار تو نہیں
سائرہ: نہیں ماجی بس تھوڑا سا بخار ہے اپ بیٹھے میں
ناشتہ بناتی ہوں ـ
بلقیس : نہیں بیٹا
رہنے دو اج میں ناشتہ بناؤں گی ویسے بھی تم اتنے دنوں سے میری اتنی خدمت کر رہی ہو
کہ میری بیٹی بھی اتنی خدمت نہ کرتی
اور پھر تم نے میری اتنی جلی کٹی
باتیں بھی سنیں اور انہیں برداشت بھی کیا سچ میں تم میری بیٹی جیسی ہی ہو
سائرہ : او ماں جی
اج اپ کے منہ سے یہ بات سن کر ایسے لگ رہا ہے جیسے میری ساری محنت پھل لے ائی ہے
ماہر: ہاں سائرہ تمہاری محنت اخرکار رنگ لے ائی
پھر کیا تھا اس دن
کے بعد وہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے اور بلقیس نے بھی سائرہ کو بہو کی نظر سے نہیں
بلکہ ہمیشہ بیٹی کی نظر سے دیکھا