Saturday, January 28, 2023

طاقتور درخت اور ننھا پودا

طاقتور درخت اور ننھا پودا

ایک خوبصورت جنگل دریا کے کنارے واقع تھا۔ یہ جنگل ہریالی، خوبصورت پھولوں، پرندوں کی آوازوں اور مختلف جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔ جنگل میں ہر طرف خوشی اور سکون کا ماحول تھا۔

اسی جنگل میں ایک بہت بڑا اور طاقتور درخت موجود تھا۔ وہ بہت اونچا تھا، اس کا تنا موٹا تھا، اور اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جنگل کے سب جانور اور پودے اس کی خوبصورتی اور مضبوطی کی تعریف کرتے تھے۔

لیکن اس درخت میں ایک بری عادت تھی۔ اسے اپنی طاقت اور خوبصورتی پر بہت غرور تھا۔

درخت اکثر اپنی شاخیں ہلاتے ہوئے فخر سے کہتا:

طاقتور درخت:
"دیکھو مجھے! میں کتنا بڑا اور مضبوط ہوں۔ میری اونچائی دیکھو، میری موٹی شاخیں دیکھو۔ پورے جنگل میں کوئی بھی درخت میرے برابر نہیں۔"

ایک پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھا اور بولا:

پرندہ:
"آپ واقعی بہت بڑے اور خوبصورت ہیں، لیکن ہمیں اپنی نعمتوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔"

درخت ہنس کر بولا:

طاقتور درخت:
"غرور؟ میں صرف حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ میری طاقت کے سامنے کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ تیز ہوا بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔"

اسی درخت کے قریب ایک چھوٹا سا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ بہت نازک اور کمزور نظر آتا تھا، لیکن وہ ہمیشہ خوش رہتا اور خاموشی سے اپنی زندگی گزارتا تھا۔

ایک دن بڑے درخت نے چھوٹے پودے کو دیکھا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا:

طاقتور درخت:
"اے ننھے پودے! ذرا میری طرف دیکھو۔ میں کتنا بڑا، مضبوط اور طاقتور ہوں، اور تمہیں دیکھو، تم کتنے چھوٹے اور کمزور ہو۔ تم تو ہوا کے ایک جھونکے سے بھی گر سکتے ہو۔"

چھوٹا پودا مسکرایا اور نرمی سے بولا:

ننھا پودا:
"آپ واقعی بہت طاقتور ہیں، لیکن ہر مخلوق کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی چھوٹا ہونا بھی ایک خوبی ہوتی ہے۔"

درخت زور سے ہنسا اور بولا:

طاقتور درخت:
"تم ابھی بہت چھوٹے ہو، تم طاقت کا مطلب نہیں سمجھ سکتے۔ طاقت کا مطلب بڑا، اونچا اور مضبوط ہونا ہے۔"

ننھا پودا خاموش ہو گیا اور صرف مسکرا دیا۔

کچھ دن گزرے۔ ایک دن آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور جنگل میں ایک زبردست طوفان آ گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور درخت زور زور سے ہلنے لگے۔

بڑے درخت نے فخر سے کہا:

طاقتور درخت:
"یہ ہوا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ میں اس جنگل کا سب سے مضبوط درخت ہوں۔"

لیکن ہوا کی رفتار بڑھتی گئی۔ درخت کی بڑی بڑی شاخیں زور سے ہلنے لگیں اور اس کی جڑیں زمین سے کمزور ہونے لگیں۔

درخت پریشان ہو کر بولا:

طاقتور درخت:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟ میری طاقت کہاں گئی؟ میں اتنا مضبوط تھا، پھر بھی میں کیوں ہل رہا ہوں؟"

طوفان اور تیز ہو گیا۔ آخرکار درخت کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئیں اور وہ زور دار آواز کے ساتھ زمین پر گر گیا۔

گرنے کے بعد درخت بہت اداس ہو گیا۔

طاقتور درخت:
"میں نے اپنی طاقت پر بہت غرور کیا۔ میں نے چھوٹے پودے کو کمزور سمجھا، لیکن آج مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اصل طاقت صرف بڑا ہونے میں نہیں بلکہ سمجھداری اور عاجزی میں ہے۔"

دوسری طرف ننھا پودا بھی تیز ہوا کی وجہ سے زمین کے قریب جھک گیا تھا، لیکن وہ ٹوٹا نہیں۔ کچھ وقت بعد جب طوفان ختم ہوا تو وہ دوبارہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔

درخت نے حیرت سے پودے کو دیکھا اور کہا:

طاقتور درخت:
"میں نے تمہیں کمزور سمجھا تھا، لیکن آج میں نے سیکھا کہ جو وقت کے ساتھ جھکنا جانتا ہے، وہ مشکل حالات سے بچ جاتا ہے۔"

ننھے پودے نے مسکرا کر جواب دیا:

ننھا پودا:
"ہر ایک کو اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اپنی سمجھداری پر بھروسہ کرنا چاہیے۔"

راوی کہتا ہے:

غرور انسان یا کسی بھی مخلوق کو کمزور بنا دیتا ہے، جبکہ عاجزی اور اچھا رویہ ہمیشہ عزت دلاتا ہے۔

سبق: غرور کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔