The Last Stand Against the Ice Man: Ep 2

برف کی سلطنت کے اندر

راوی:
محمود، فاروق اور فرزانہ جنگل کے اندر مزید گہرائی تک بڑھتے جا رہے تھے، جبکہ انسپکٹر جمشید کچھ فاصلے پر ان کا پیچھا کر رہے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کر سکیں۔

انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آہستہ آہستہ مسٹر آئس کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔

فاروق:
"محمود، کیا تمہیں کچھ محسوس ہو رہا ہے؟"

محمود:
"ہاں فاروق، محسوس ہو رہا ہے کہ ہم جنگل کے اندر ہیں اور یہاں کا ماحول کتنا خوبصورت ہے۔"

فاروق:
"ارے محمود! تم بھی کمال کرتے ہو۔ اگر جنگل خوبصورت نہ ہوتا تو کیا یہ صحرا ہوتا؟ تم ہمیشہ وہی بات بتاتے ہو جو سب کو پہلے سے معلوم ہوتی ہے۔"

فرزانہ:
"تم دونوں میری بات سنو! مجھے یہاں بہت سردی محسوس ہو رہی ہے۔ میں کب سے بتانے کی کوشش کر رہی ہوں، لیکن کوئی میری سنتا ہی نہیں۔"

فاروق:
"رکو... فرزانہ شاید صحیح کہہ رہی ہے۔ مجھے بھی اب ٹھنڈ محسوس ہو رہی ہے۔"

محمود:
"اس کا مطلب ہے کہ ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں۔ مسٹر آئس ضرور اسی علاقے میں ہے۔"


مسٹر آئس سے پہلی ملاقات

راوی:
اچانک درختوں کے درمیان ایک خوفناک سایہ نمودار ہوا۔ تینوں بچے رک گئے۔

ان کے سامنے ایک خطرناک شکل والا شخص کھڑا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ مسٹر آئس تھا۔

فرزانہ (ڈرتے ہوئے):
"ایک منٹ... یہ کیا چیز ہے؟ کیا یہ کوئی عجیب جانور ہے؟ یہ تو بہت خوفناک لگ رہا ہے۔"

مسٹر آئس:
"ہا ہا ہا! تم لوگوں نے یہاں تک پہنچ کر بہت بہادری دکھائی ہے، لیکن افسوس... تم خود اپنی موت کے مقام پر آ گئے ہو۔"

فرزانہ:
"اوہ آئس کریم بھائی! ہم لڑنے نہیں آئے۔ ہمیں بس تھوڑی سی آئس کریم دے دو، پھر ہم واپس چلے جائیں گے۔"

مسٹر آئس (غصے سے):
"آئس کریم؟ تم سمجھتے ہو کہ یہاں کھانے پینے آئے ہو؟ میں تمہیں ایسی برف بنا دوں گا کہ تم ہمیشہ کے لیے اسی میں قید رہو گے۔"

فرزانہ:
"تو آپ آئس کریم والے بھائی نہیں ہیں؟ مجھے غلط فہمی ہو گئی۔"

فاروق:
"فرزانہ! یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔"


جنگ کا آغاز

راوی:
مسٹر آئس نے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ اچانک اس کے ہاتھ سے برفانی توانائی کا ایک طاقتور حملہ نکلا اور سیدھا فاروق کی طرف بڑھا۔

فاروق نے آخری لمحے میں چھلانگ لگا کر خود کو بچا لیا۔

فاروق:
"واہ! یہ تو واقعی ہمیں برف بنانے آیا ہے۔ میں سمجھ رہا تھا شاید صرف ڈرانے کی بات کر رہا ہے۔"

محمود:
"تمہیں کیا لگا تھا؟ وہ مذاق کر رہا ہوگا؟ ہمیں جلدی سوچنا ہوگا کہ اس کا مقابلہ کیسے کریں۔"

راوی:
مسٹر آئس نے دوبارہ حملہ کیا، اس بار محمود کی طرف۔

محمود بھی بڑی مشکل سے بچ گیا۔

محمود:
"یہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔"

فاروق:
"وہ مسلسل حملے کر رہا ہے۔ ہم ہمیشہ بچتے نہیں رہ سکتے۔ میرے پاس ایک خیال ہے۔"

فرزانہ:
"کیا خیال ہے؟"

فاروق:
"ہم تینوں الگ الگ سمتوں میں بھاگتے ہیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر پائے گا کہ پہلے کس پر حملہ کرے۔"


حیران کن حملہ

راوی:
تینوں بچے مختلف سمتوں میں بھاگ گئے۔

مسٹر آئس کچھ لمحوں کے لیے حیران رہ گیا۔

مسٹر آئس:
"بزدلو! کہاں بھاگ رہے ہو؟ آج تک کوئی مجھ سے بچ نہیں پایا۔"

راوی:
اسی دوران فاروق نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا بم نکالا۔

فاروق:
"اب دیکھتے ہیں تم کتنے طاقتور ہو۔"

(وہ بم کی پن نکال کر مسٹر آئس کی طرف پھینک دیتا ہے۔)

بم مسٹر آئس کے ہاتھ سے ٹکراتا ہے اور زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔

فاروق:
"ہاں! ہمارا نشانہ بالکل درست تھا۔"

راوی:
دھماکے سے مسٹر آئس کا ہاتھ پگھل گیا۔

تینوں بچے خوش ہو گئے، لیکن ان کی خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔

چند لمحوں بعد مسٹر آئس کا ہاتھ دوبارہ بننے لگا اور وہ پھر سے برف کا بن گیا۔

مسٹر آئس:
"احمق بچو! تمہارے یہ کھلونے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔"

مسٹر آئس:
"میرے مالک مسٹر چیٹ نے مجھے ایسی طاقت دی ہے کہ تم لوگ میرا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے۔"


واپسی کا فیصلہ

راوی:
محمود، فاروق اور فرزانہ سمجھ گئے کہ ابھی وہ مسٹر آئس کو شکست نہیں دے سکتے۔

محمود:
"فاروق، فرزانہ! ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔ ابھی نہیں، لیکن ہم دوبارہ آئیں گے۔"

فاروق:
"ہاں، ہمیں پہلے کوئی بہتر منصوبہ بنانا ہوگا۔"

فرزانہ:
"اور اگلی بار میں آئس کریم بھی ساتھ لے کر آؤں گی، شاید یہ بھائی مان جائے۔"

فاروق:
"تم کبھی سنجیدہ نہیں ہو سکتیں۔"

راوی:
تینوں بچے درختوں کی آڑ لیتے ہوئے وہاں سے نکل گئے اور واپس انسپکٹر جمشید کے پاس پہنچ گئے۔


ولن کا اگلا منصوبہ

راوی:
دوسری طرف ایک اندھیری غار میں مسٹر چیٹ اور مسٹر آئس بات کر رہے تھے۔

مسٹر چیٹ:
"مجھے خبر ملی ہے کہ انسپکٹر جمشید اور وہ بچے جنگل میں آ گئے ہیں۔"

مسٹر آئس:
"ہاں، میرا ان سے سامنا ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے وہ بچ نکلے۔"

مسٹر چیٹ:
"وہ چالاک اور تیز ہیں، لیکن زیادہ دیر تک ہم سے نہیں بچ سکتے۔"

مسٹر چیٹ:
"جلد ہی وہ ہمارے سامنے ہوں گے، اور ان کا انجام صرف ایک ہوگا..."

مسٹر آئس:
"برف..."

مسٹر چیٹ:
"اور صرف برف!"

راوی:
مسٹر چیٹ کی خطرناک ہنسی پوری غار میں گونجنے لگی، جبکہ محمود، فاروق اور فرزانہ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اصل جنگ ابھی باقی ہے۔

جاری ہے...