عنوان: سائم اور بھنچال کا خطرناک جال
راوی:
"کہانی آگے بڑھتی ہے جہاں بھنچال ایک خطرناک منصوبہ تیار کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہیرو ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لیے ضرور آئے گا، اسی لیے اس نے ایک ایسا جال بچھایا جس میں وہ سائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تھا۔"
بھنچال (ہنستے ہوئے):
"اب کی بار وہ ہیرو خود میرے پاس آئے گا۔ میں اسے تلاش نہیں کروں گا، بلکہ اسے میرے جال میں آنے پر مجبور کروں گا۔"
بھنچال:
"شہر کا سب سے بڑا ہسپتال... اگر وہاں تباہی پھیلاؤں گا تو وہ ضرور آئے گا۔ اور جب وہ لوگوں کو بچانے میں مصروف ہوگا، تب میں اس پر حملہ کروں گا۔"
(بھنچال اپنی طاقت سے پورے ہسپتال کو آگ لگا دیتا ہے۔ ہر طرف چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔)
لوگ:
"بچاؤ! بچاؤ! کوئی ہماری مدد کرو!"
بھنچال (دور سے دیکھتے ہوئے):
"چیخو، مدد کے لیے پکارو۔ تمہارا ہیرو ضرور آئے گا... اور جب وہ آئے گا، اس کی کہانی ختم ہو جائے گی۔"
(دوسری طرف سائم اپنے کمرے میں موجود ہوتا ہے۔ اچانک حماد گھبرایا ہوا اندر آتا ہے۔)
سائم:
"حماد! کیا ہوا؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟"
حماد (سانس لیتے ہوئے):
"سائم... ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔"
سائم:
"پہلے آرام سے سانس لو، پھر مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے۔"
حماد:
"شہر کے درمیان والا سٹی ہسپتال آگ کی لپیٹ میں ہے۔ اندر بہت سارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔"
سائم (حیران ہو کر):
"کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمیں فوراً وہاں جانا ہوگا۔"
حماد:
"لیکن سائم، وہاں بہت خطرہ ہے۔"
سائم:
"اگر کوئی مشکل میں ہے تو میں خاموش نہیں رہ سکتا۔"
(سائم ہسپتال پہنچتا ہے جہاں آگ تیزی سے پھیل رہی ہوتی ہے۔ لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہوتے ہیں۔)
لوگ:
"ہیرو آ گیا! ہمیں بچا لو!"
سائم:
"سب لوگ پیچھے ہٹ جائیں۔ میں اندر جا کر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالتا ہوں۔"
(ہسپتال کے ایک کمرے میں ایک چھوٹی بچی خوف سے رو رہی ہوتی ہے۔)
بچی:
"مجھے بچاؤ! کوئی ہے؟"
(اوپر سے جلتا ہوا لکڑی کا ٹکڑا اس کی طرف گرتا ہے۔)
بچی:
"آہ!"
(اچانک سائم آتا ہے اور لکڑی کو زور سے دور پھینک دیتا ہے۔)
سائم:
"فکر نہ کرو، اب تم محفوظ ہو۔"
بچی:
"آپ کون ہیں؟"
سائم:
"ایک ایسا انسان جو کسی کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا۔"
(سائم بچی کو اٹھا کر باہر لے آتا ہے۔)
لوگ:
"ہیرو! ہیرو! ہیرو!"
(اچانک ہسپتال کے اندر سے ایک اور بچے کے رونے کی آواز آتی ہے۔)
بچہ:
"کوئی میری مدد کرے!"
سائم:
"ایک اور شخص اندر ہے۔ مجھے واپس جانا ہوگا۔"
حماد:
"سائم، محتاط رہنا!"
سائم:
"میں جلد واپس آتا ہوں۔"
(سائم دوبارہ جلتی ہوئی عمارت میں داخل ہوتا ہے۔ اچانک اس کا لاکٹ تیز روشنی دینے لگتا ہے۔)
سائم:
"یہ کیا؟ لاکٹ خطرے کا اشارہ دے رہا ہے۔"
(اچانک ایک پراسرار طاقت سائم کو زور سے دھکا دیتی ہے اور وہ دیوار سے جا ٹکراتا ہے۔)
سائم:
"یہ حملہ کہاں سے آیا؟ یہاں تو کوئی نظر بھی نہیں آ رہا۔"
(ایک اور حملہ ہوتا ہے۔)
سائم:
"کوئی چھپ کر مجھ پر حملہ کر رہا ہے۔"
(سائم ہمت نہیں ہارتا اور بچے تک پہنچ جاتا ہے۔)
سائم:
"ڈرو نہیں، میں تمہیں یہاں سے نکال لے جاؤں گا۔"
بچہ:
"مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔"
سائم:
"جب تک میں ہوں، تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔"
(سائم بچے کو لے کر بالکونی تک پہنچتا ہے۔ اچانک ایک طاقت اسے پیچھے سے دھکا دیتی ہے۔)
سائم:
"نہیں!"
راوی:
"سائم اور بچہ ساتویں منزل سے نیچے گرنے لگتے ہیں۔ ہر طرف لوگ خوف سے چیخنے لگتے ہیں۔"
لوگ:
"ہیرو گر گیا! اسے بچاؤ!"
(اسی لمحے سائم کا لاکٹ زبردست روشنی خارج کرتا ہے۔)
سائم:
"یہ طاقت...!"
(نیلی روشنی پورے علاقے کو بھر دیتی ہے۔ کچھ لمحوں بعد روشنی ختم ہوتی ہے۔)
راوی:
"جب روشنی ختم ہوئی تو سب حیران رہ گئے۔ سائم اور بچہ زمین پر بالکل محفوظ کھڑے تھے۔ نہ صرف وہ بچ گئے بلکہ ہسپتال کی آگ بھی ختم ہو چکی تھی اور پوری عمارت دوبارہ پہلے جیسی بن چکی تھی۔"
لوگ:
"ہیرو! ہیرو! تم نے ایک بار پھر ہماری جان بچا لی!"
بچی:
"شکریہ ہیرو!"
سائم:
"اصل طاقت میری نہیں، اس لاکٹ کی ہے۔ لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ مجھے کیوں ملا ہے۔"
(بعد میں سائم اور حماد ایک کھلے میدان میں بیٹھے بات کر رہے ہوتے ہیں۔)
حماد:
"سائم، آج جو ہوا اسے دیکھ کر میری جان نکل گئی تھی۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا۔"
سائم:
"فکر مت کرو حماد، جب تک میں یہ نہیں جان لیتا کہ میری جان کے پیچھے کون ہے، میں ہار نہیں مانوں گا۔"
حماد:
"لیکن آج وہاں کیا ہوا تھا؟ مجھے سب کچھ بتاؤ۔"
سائم:
"وہاں کوئی تھا... جو نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ مجھ پر حملہ کر رہا تھا۔"
حماد:
"کیا یہ وہی سیاہ سایہ ہو سکتا ہے جس کا ذکر لوگ کرتے ہیں؟"
سائم:
"ممکن ہے۔"
سائم:
"حماد، تم میرے سب سے اچھے دوست ہو۔ اسی لیے میں نہیں چاہتا کہ تم اس سب میں شامل ہو۔"
حماد:
"کیا مطلب؟"
سائم:
"اب سے تم اس معاملے سے دور رہو گے۔ میں خود اسے سنبھالوں گا۔ جب تک میرے پاس یہ لاکٹ ہے، میں ٹھیک رہوں گا۔"
حماد:
"لیکن سائم..."
سائم:
"نہیں حماد۔ آج جو ہوا وہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں تمہیں خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔"
(دوسری طرف بھنچال اپنے اڈے پر غصے میں ہوتا ہے۔)
بھنچال:
"نہیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرا جال بھی اسے ختم نہیں کر سکا۔"
بھنچال:
"وہ انسان نہیں ہو سکتا۔ اس کے پاس کوئی ایسی طاقت ہے جو میری طاقت کے برابر ہے۔"
بھنچال:
"لیکن کوئی بات نہیں... اگلی بار میرا وار پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا۔"
بھنچال:
"ہیرو، تم جتنا بھی بچنے کی کوشش کرو، آخرکار تمہیں میرے سامنے آنا ہی ہوگا۔"
راوی:
"سائم کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا دشمن صرف ایک سایہ نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو اس کے لاکٹ کے راز سے جڑی ہوئی ہے۔ آنے والی جنگ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہونے والی تھی۔"
جاری ہے...