Sunday, December 31, 2023

سگھڑ بہو

 

ســگــھــڑ بـہـو

ساحرہ بڑی پیاری سی لڑکی تھی اس کی شادی ایک بہت بڑے پریوار میں ہوئی تھی سائرہ کے شوہر کا نام ماہر تھا جو کہ بڑا ہی نیک شخص تھا اور ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا وہ سائرہ سے بے حد محبت کرتا تھا جب سے ایک شادی پر سا‍ئرہ کو دیکھا بس اس کا دیوانہ ہو گیا اور آخرکار دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےـ

ماہر کی ماں اور سا‍ئرہ کی ساس بلقیس بی بی تھی جو بہت ہی سخت مزاج کی تھی اور سا‍ئرہ تو اس کو ایک آنکھ نہ بھاتی ـ

بلقیس:  ارے بہو کہاں رہ گئی کب سے چلا رہی ہوں ـ

سا‍ئرہ کمرے میں آتے ہوئے

سا‍ئرہ:  جی جی ماں جی آپ نے بلایا ـ

بلقیس :   لو یہ دیکھو کب سے چلا چلا کر میرا گلا بیٹھ گیا ہے اور یہ مہارانی پوچھ رہی ہے کہ اپ نے بلایا ـ

سا‍ئرہ : جی ماں جی بولیے ـ

بلقیس : بہو اس گھر میں ایسے نہیں چلے گا میری پہلی اواز پر تمہیں انا ہی ہوگا کہۓ دیتی ہوں ـ

بلقیس کی بات سن کر سا‍ئرہ بیچاری خاموش ہو گئی

سا‍ئرہ :  جی ماں جی جیسا اپ کا حکم

بیچاری خاموشی کے ساتھ جانے ہی والی تھی کہ ساس پولی بہو دیکھو شام ہونے والی ہے اس لیے جلدی سے رات کا کھانا تیار کرو اور کھانے کے بعد یہ یاد رکھنا کہ میں چائے بھی ضرور لیتی ہوں

سا‍ئرہ جی ماں جی کہتے ہوئے کچن میں چلی گئی اور رات کا کھانا تیار کرنے لگی رات گئے ماہر بھی گھر آ چکا تھا اور سب نے کھانا کھایا اور پھر سا‍ئرہ نے ماں جی کو چائے دی اور ان کے کھانے کے بعد سائرہ نے بھی کھانا کھا لیا اور پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ـ

ماہر: سائرہ سناؤ اج کا دن کیسا رہا

سا‍ئرہ :  جی ٹھیک رہا اس نے اپنی ساس کی ڈانٹ کا ذکر بالکل نہ کیا ـ

 ماہر :  اج کھانا بڑا مزیدار تھا

سا‍ئرہ : جی اج میں نے پکایا تھا اپ کو پسند ایا تو اچھی بات ہے لیکن ماں کو پتہ نہیں پسند ایا ہوگا کہ نہیں ـ

ماہر:  او ماں کو صرف اپنے ہاتھ کی چیزیں ہی پسند اتی ہیں اور ان کی باتوں کو سننا بڑے دل گردے کی بات ہے

سا‍ئرہ :  اپ فکر نہ کریں میں دیکھ لوں گی

صبح ساس کے اٹھنے سے پہلے سا‍ئرہ نے ان کے لیے چائے تیار کی اور پانی گرم کر کے رکھ دیا اور پھر جیسے ہی ساس نے سا‍ئرہ کو پکارا سائرہ چائے لے کر ماں کے پاس پہنچ گئی بلقیس بیگم تو جیسے دم بخود رہ گئی ـ

بلقیس :  کیا بات ہے بڑی جلدی اٹھ گئی ہو میں نے تو سوچا شاید پھر اوازیں دینا پڑیں گی سا‍ئرہ : ماں جی اپ کے لیے گرم پانی رکھا ہے منہ ہاتھ دھو لیں بہو کی یہ بات سن کر بلقیس بیگم دھنگ سی رہ گئی وہ دل ہی دل میں خوش تھی کہ کتنی اچھی بہو ائی ہے لیکن پھر بھی اس سے کہا ٹھیک ہے اب جلدی سے ناشتہ بناؤ اور ہاں ماہر کو وقت پر افس بھیجنا یہ نہ ہو کہ سویا ہی رہ جائے ـ

سا‍ئرہ : ٹھیک ہے ماں جی کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور پھر کچن میں مصروف ہو گئی تھوڑی دیر میں ناشتہ ریڈی ہو گیا تھا اور ماہر بھی تیار ہو کر ناشتے کی میز پر ا بیٹھا ـ

ماہر:  ماں جی کیسی ہیں اپ ـ

بلقیس : میں تو ٹھیک ہوں تم رات کو دیر سے کیوں ائے

ماہر :  بس ماں جی افس کا کام پینڈنگ تھا اسے ختم کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا

بلقیس : بیٹا صحت کا بھی خیال رکھا کرو دیکھو کیسے سوکھ کر کانٹا بن گئے ہو

ماہر:  جی ماں جی کیوں نہیں ـ

ماہر ناشتہ کر کے افس چلا گیا اور سائرہ گھر کے کاموں میں لگ گئی کافی دن گزر گئے ایک دن سائرہ بیچاری بیمار پڑ گئی اور بستر پر بخار سے تمتما رہی تھی کہ

ماہرپکارا : او سائرہ تم بیمار ہو ماں کے ساتھ جا کر دوائی لے انا ـ

بلقیس کمرے میں اتے ہوئے کیا بات ہے بہو کیوں لیٹی ہوئی ہو

ماہر : ماں سائرہ بیمار ہے ماہر نے کہا

بلقیس : اوہ زیادہ بیمار تو نہیں

سائرہ:  نہیں ماجی بس تھوڑا سا بخار ہے اپ بیٹھے میں ناشتہ بناتی ہوں ـ

بلقیس : نہیں بیٹا رہنے دو اج میں ناشتہ بناؤں گی ویسے بھی تم اتنے دنوں سے میری اتنی خدمت کر رہی ہو کہ میری بیٹی بھی اتنی خدمت نہ کرتی

 اور پھر تم نے میری اتنی جلی کٹی باتیں بھی سنیں اور انہیں برداشت بھی کیا سچ میں تم میری بیٹی جیسی ہی ہو

سائرہ : او ماں جی اج اپ کے منہ سے یہ بات سن کر ایسے لگ رہا ہے جیسے میری ساری محنت پھل لے ائی ہے

ماہر:  ہاں سائرہ تمہاری محنت اخرکار رنگ لے ائی

پھر کیا تھا اس دن کے بعد وہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے اور بلقیس نے بھی سائرہ کو بہو کی نظر سے نہیں بلکہ ہمیشہ بیٹی کی نظر سے دیکھا

Saturday, January 28, 2023

طاقتور درخت اور ننھا پودا

طاقتور درخت اور ننھا پودا

ایک خوبصورت جنگل دریا کے کنارے واقع تھا۔ یہ جنگل ہریالی، خوبصورت پھولوں، پرندوں کی آوازوں اور مختلف جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔ جنگل میں ہر طرف خوشی اور سکون کا ماحول تھا۔

اسی جنگل میں ایک بہت بڑا اور طاقتور درخت موجود تھا۔ وہ بہت اونچا تھا، اس کا تنا موٹا تھا، اور اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جنگل کے سب جانور اور پودے اس کی خوبصورتی اور مضبوطی کی تعریف کرتے تھے۔

لیکن اس درخت میں ایک بری عادت تھی۔ اسے اپنی طاقت اور خوبصورتی پر بہت غرور تھا۔

درخت اکثر اپنی شاخیں ہلاتے ہوئے فخر سے کہتا:

طاقتور درخت:
"دیکھو مجھے! میں کتنا بڑا اور مضبوط ہوں۔ میری اونچائی دیکھو، میری موٹی شاخیں دیکھو۔ پورے جنگل میں کوئی بھی درخت میرے برابر نہیں۔"

ایک پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھا اور بولا:

پرندہ:
"آپ واقعی بہت بڑے اور خوبصورت ہیں، لیکن ہمیں اپنی نعمتوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔"

درخت ہنس کر بولا:

طاقتور درخت:
"غرور؟ میں صرف حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ میری طاقت کے سامنے کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ تیز ہوا بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔"

اسی درخت کے قریب ایک چھوٹا سا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ بہت نازک اور کمزور نظر آتا تھا، لیکن وہ ہمیشہ خوش رہتا اور خاموشی سے اپنی زندگی گزارتا تھا۔

ایک دن بڑے درخت نے چھوٹے پودے کو دیکھا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا:

طاقتور درخت:
"اے ننھے پودے! ذرا میری طرف دیکھو۔ میں کتنا بڑا، مضبوط اور طاقتور ہوں، اور تمہیں دیکھو، تم کتنے چھوٹے اور کمزور ہو۔ تم تو ہوا کے ایک جھونکے سے بھی گر سکتے ہو۔"

چھوٹا پودا مسکرایا اور نرمی سے بولا:

ننھا پودا:
"آپ واقعی بہت طاقتور ہیں، لیکن ہر مخلوق کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی چھوٹا ہونا بھی ایک خوبی ہوتی ہے۔"

درخت زور سے ہنسا اور بولا:

طاقتور درخت:
"تم ابھی بہت چھوٹے ہو، تم طاقت کا مطلب نہیں سمجھ سکتے۔ طاقت کا مطلب بڑا، اونچا اور مضبوط ہونا ہے۔"

ننھا پودا خاموش ہو گیا اور صرف مسکرا دیا۔

کچھ دن گزرے۔ ایک دن آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور جنگل میں ایک زبردست طوفان آ گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور درخت زور زور سے ہلنے لگے۔

بڑے درخت نے فخر سے کہا:

طاقتور درخت:
"یہ ہوا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ میں اس جنگل کا سب سے مضبوط درخت ہوں۔"

لیکن ہوا کی رفتار بڑھتی گئی۔ درخت کی بڑی بڑی شاخیں زور سے ہلنے لگیں اور اس کی جڑیں زمین سے کمزور ہونے لگیں۔

درخت پریشان ہو کر بولا:

طاقتور درخت:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟ میری طاقت کہاں گئی؟ میں اتنا مضبوط تھا، پھر بھی میں کیوں ہل رہا ہوں؟"

طوفان اور تیز ہو گیا۔ آخرکار درخت کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئیں اور وہ زور دار آواز کے ساتھ زمین پر گر گیا۔

گرنے کے بعد درخت بہت اداس ہو گیا۔

طاقتور درخت:
"میں نے اپنی طاقت پر بہت غرور کیا۔ میں نے چھوٹے پودے کو کمزور سمجھا، لیکن آج مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اصل طاقت صرف بڑا ہونے میں نہیں بلکہ سمجھداری اور عاجزی میں ہے۔"

دوسری طرف ننھا پودا بھی تیز ہوا کی وجہ سے زمین کے قریب جھک گیا تھا، لیکن وہ ٹوٹا نہیں۔ کچھ وقت بعد جب طوفان ختم ہوا تو وہ دوبارہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔

درخت نے حیرت سے پودے کو دیکھا اور کہا:

طاقتور درخت:
"میں نے تمہیں کمزور سمجھا تھا، لیکن آج میں نے سیکھا کہ جو وقت کے ساتھ جھکنا جانتا ہے، وہ مشکل حالات سے بچ جاتا ہے۔"

ننھے پودے نے مسکرا کر جواب دیا:

ننھا پودا:
"ہر ایک کو اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اپنی سمجھداری پر بھروسہ کرنا چاہیے۔"

راوی کہتا ہے:

غرور انسان یا کسی بھی مخلوق کو کمزور بنا دیتا ہے، جبکہ عاجزی اور اچھا رویہ ہمیشہ عزت دلاتا ہے۔

سبق: غرور کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔