طاقتور درخت اور ننھا پودا
ایک خوبصورت جنگل دریا کے کنارے واقع تھا۔ یہ جنگل ہریالی، خوبصورت پھولوں، پرندوں کی آوازوں اور مختلف جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔ جنگل میں ہر طرف خوشی اور سکون کا ماحول تھا۔
اسی جنگل میں ایک بہت بڑا اور طاقتور درخت موجود تھا۔ وہ بہت اونچا تھا، اس کا تنا موٹا تھا، اور اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ جنگل کے سب جانور اور پودے اس کی خوبصورتی اور مضبوطی کی تعریف کرتے تھے۔
لیکن اس درخت میں ایک بری عادت تھی۔ اسے اپنی طاقت اور خوبصورتی پر بہت غرور تھا۔
درخت اکثر اپنی شاخیں ہلاتے ہوئے فخر سے کہتا:
ایک پرندہ درخت کی شاخ پر بیٹھا اور بولا:
درخت ہنس کر بولا:
اسی درخت کے قریب ایک چھوٹا سا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ بہت نازک اور کمزور نظر آتا تھا، لیکن وہ ہمیشہ خوش رہتا اور خاموشی سے اپنی زندگی گزارتا تھا۔
ایک دن بڑے درخت نے چھوٹے پودے کو دیکھا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا:
چھوٹا پودا مسکرایا اور نرمی سے بولا:
درخت زور سے ہنسا اور بولا:
ننھا پودا خاموش ہو گیا اور صرف مسکرا دیا۔
کچھ دن گزرے۔ ایک دن آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور جنگل میں ایک زبردست طوفان آ گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور درخت زور زور سے ہلنے لگے۔
بڑے درخت نے فخر سے کہا:
لیکن ہوا کی رفتار بڑھتی گئی۔ درخت کی بڑی بڑی شاخیں زور سے ہلنے لگیں اور اس کی جڑیں زمین سے کمزور ہونے لگیں۔
درخت پریشان ہو کر بولا:
طوفان اور تیز ہو گیا۔ آخرکار درخت کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئیں اور وہ زور دار آواز کے ساتھ زمین پر گر گیا۔
گرنے کے بعد درخت بہت اداس ہو گیا۔
دوسری طرف ننھا پودا بھی تیز ہوا کی وجہ سے زمین کے قریب جھک گیا تھا، لیکن وہ ٹوٹا نہیں۔ کچھ وقت بعد جب طوفان ختم ہوا تو وہ دوبارہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔
درخت نے حیرت سے پودے کو دیکھا اور کہا:
ننھے پودے نے مسکرا کر جواب دیا:
راوی کہتا ہے:
غرور انسان یا کسی بھی مخلوق کو کمزور بنا دیتا ہے، جبکہ عاجزی اور اچھا رویہ ہمیشہ عزت دلاتا ہے۔
سبق: غرور کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔