Sunday, July 12, 2026

Saving Lala: The Red Fox Series Final Ep

 

سرخ لومڑی کا راز: لالا کا انکشاف

راوی:
رات کا وقت تھا۔ آسمان پر پورا چاند روشن تھا اور چاندنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ یہ وہ رات تھی جس کا لالا کو سب سے زیادہ خوف تھا۔

جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجائے، چاند کی روشنی لالا پر پڑی۔ اچانک اس کے جسم میں عجیب سی تبدیلی آنے لگی۔

لالا:
"نہیں... یہ وقت آ گیا۔"

(روشنی پھیلنے لگتی ہے اور لالا آہستہ آہستہ اپنی اصل شکل یعنی ایک بڑی سرخ لومڑی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔)

لیکن احمد اور لالا کو معلوم نہیں تھا کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔

گھر کے ایک کونے میں چھپا ہوا چور اپنا کیمرہ آن کر چکا تھا۔

چور (دل میں):
"تو یہ راز ہے۔ یہی وہ سرخ لومڑی ہے جسے لوگ ڈھونڈ رہے ہیں۔"

(وہ پورا منظر کیمرے میں ریکارڈ کر لیتا ہے۔)

چور:
"اب اس ویڈیو سے مجھے بہت بڑا انعام ملے گا۔"


لالا کا راز پھیل گیا

راوی:
تین دن بعد احمد کالج میں بیٹھا ہوا تھا کہ سعد تیزی سے اس کے پاس آیا۔

سعد:
"احمد! تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ لالا ایک جادوئی سرخ لومڑی ہے؟"

احمد (حیرت سے):
"کیا؟ تم کیا کہہ رہے ہو؟"

سعد:
"یہ دیکھو!"

(سعد اپنا موبائل احمد کو دکھاتا ہے۔)

سعد:
"یہ ویڈیو پورے انٹرنیٹ پر پھیل رہی ہے۔ اس میں لالا کو لومڑی میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے۔"

(احمد ویڈیو دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔)

احمد:
"نہیں... یہ نہیں ہو سکتا۔"

سعد:
"احمد، تمہیں اس کے بارے میں سب معلوم تھا نا؟"

احمد:
"مجھے ابھی گھر جانا ہوگا۔"

(احمد فوراً کالج سے نکل جاتا ہے۔)


گھر پر حملہ

راوی:
جب احمد گھر پہنچا تو اس کا دل دہل گیا۔

گھر کا سامان بکھرا ہوا تھا، ہر طرف دھواں تھا اور اس کے والدین باہر کھڑے پریشان تھے۔

احمد:
"امی! ابو! آپ دونوں ٹھیک ہیں؟ کیا ہوا یہاں؟"

احمد کی والدہ (آنسوؤں کے ساتھ):
"ہم ٹھیک ہیں بیٹا، لیکن کچھ لوگ یہاں آئے تھے۔"

احمد کے والد:
"انہوں نے ہم پر حملہ کیا اور لالا کو اپنے ساتھ لے گئے۔"

احمد کی والدہ:
"ہم اسے بچا نہیں سکے، ہمیں معاف کر دو بیٹا۔"

احمد:
"نہیں امی، یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔"

احمد:
"مجھے معلوم ہے یہ کس نے کیا ہے۔"


لالا کو بچانے کا مشن

راوی:
احمد نے تحقیق کی تو اسے پتا چلا کہ لالا کو ایک جدید تحقیقاتی مرکز میں رکھا گیا ہے، جسے ایک سائنس دان مہندر چلا رہا تھا۔

مہندر لالا پر تجربے کر رہا تھا تاکہ وہ اسے زبردستی اپنی سرخ لومڑی والی شکل میں تبدیل کر سکے۔

مہندر:
"اپنی اصل شکل دکھاؤ! ہمیں معلوم ہے تم ایک عام لڑکی نہیں ہو۔"

لالا:
"میں تمہارے تجربے کا سامان نہیں ہوں۔"

مہندر:
"ہمیں سچ جاننا ہے۔"

لالا:
"تم کبھی زبردستی کسی کا راز نہیں جان سکتے۔"

اسی وقت احمد وہاں پہنچ جاتا ہے۔

وہ سیکیورٹی کو پار کرتا ہوا اندر آتا ہے اور مہندر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

احمد:
"جسے تم نے قید کیا ہے، وہ ایک لڑکی ہے، کوئی جانور نہیں۔"

احمد:
"تم لوگ کس دور میں رہ رہے ہو؟ کیا واقعی تم سمجھتے ہو کہ ایک لومڑی انسان بن سکتی ہے؟"

احمد:
"اگر وہ واقعی کوئی خطرناک مخلوق ہوتی تو اب تک اپنی شکل کیوں نہ بدلتی؟"

ایک افسر احمد کی بات سن کر سوچنے لگتا ہے۔

افسر:
"اس کی بات میں وزن ہے۔"

مہندر:
"نہیں! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ تم سب نے ویڈیو دیکھی ہے۔"

احمد:
"وہ ویڈیو جعلی ہے۔"

مہندر:
"جعلی؟ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟"


جھوٹی ویڈیو کا راز

راوی:
احمد نے ایک ہولوگرام پروجیکٹر نکالا۔

احمد:
"آج کے دور میں کسی کو دھوکہ دینا مشکل نہیں۔"

(وہ ہولوگرام کے ذریعے دکھاتا ہے کہ کس طرح روشنی اور ٹیکنالوجی سے ایسی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔)

سب لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔

احمد:
"یہ صرف ایک چال تھی۔ کسی نے انعام کے لالچ میں سب کو دھوکہ دیا۔"

(احمد ہجوم میں کھڑے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)

احمد:
"یہ آدمی چور ہے۔ اسی نے ہمارا گھر لوٹا اور یہی اس جعلی ویڈیو کے پیچھے ہے۔"

احمد:
"اب فیصلہ آپ کریں، ایک چور کی بات پر یقین کریں گے یا سچ پر؟"

(پولیس چور کو گرفتار کر لیتی ہے۔)

افسر:
"اس لڑکی کو فوراً آزاد کرو۔"


لالا کی واپسی

راوی:
مہندر احمد کو لالا کے شیشے والے کمرے تک لے جاتا ہے۔

لالا بے ہوش پڑی تھی۔

احمد:
"لالا!"

احمد:
"آنکھیں کھولو۔ میں یہاں ہوں۔"

(لالا آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتی ہے۔)

لالا:
"احمد..."

احمد:
"چلو، ہمیں یہاں سے جانا ہے۔"


مہندر کا آخری امتحان

راوی:
مہندر ابھی بھی پوری طرح مطمئن نہیں تھا۔

جب احمد اور لالا باہر جا رہے تھے، اس نے ایک شیشے کی گیند احمد کی طرف پھینکی۔

گیند احمد کی پشت کی طرف تیزی سے جا رہی تھی۔

اچانک لالا بجلی کی رفتار سے حرکت کرتی ہے اور گیند کو ہوا میں پکڑ لیتی ہے۔

وہ اسے دور پھینک دیتی ہے۔

مہندر سب سمجھ جاتا ہے۔

مہندر (دل میں):
"میں درست تھا... یہ واقعی وہی سرخ لومڑی ہے۔"

مہندر:
"لیکن اس کا احمد کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہے۔"

مہندر (دل میں):
"اگر میں نے احمد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو یہ کسی کو نہیں چھوڑے گی۔"

مہندر:
"بہتر ہے ہم انہیں اپنی زندگی جینے دیں۔"


خوشگوار اختتام

راوی:
اس دن کے بعد احمد اور لالا نے سکون کی زندگی گزارنا شروع کر دی۔

لالا نے انسانی دنیا کے بارے میں بہت کچھ سیکھا اور احمد نے بھی جان لیا کہ اصل طاقت صرف جسم میں نہیں بلکہ دل کی اچھائی میں ہوتی ہے۔

سرخ لومڑی کا راز اب صرف ان لوگوں کے پاس تھا جو واقعی اس کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔

احمد اور لالا کی دوستی ہمیشہ کے لیے قائم ہو گئی۔

اختتام

Saving Lala: The Red Fox Series Ep #3

 

سرخ لومڑی کا راز: احمد اور لالا کی دوستی

راوی:
لالا کے کالج آنے سے احمد حیران رہ گیا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکی کو اس نے گھر پر رہنے کو کہا تھا، وہ اچانک اسی کے کالج میں کیسے آ گئی۔

لالا کلاس میں داخل ہوئی اور سب کو حیران کرتے ہوئے سیدھا احمد کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

احمد (آہستہ آواز میں):
"میں نے تمہیں گھر پر رہنے کو کہا تھا۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"

لالا:
"ماسٹر، میں گھر میں بیٹھ کر بور ہو رہی تھی، اس لیے سوچا کہ آپ کے کالج بھی آ جاؤں۔"

احمد:
"اور تمہارا نام لالا کیسے بن گیا؟"

لالا (مسکرا کر):
"مجھے لگا کہ آپ کو لالا نام پسند آئے گا، اس لیے میں نے یہی نام رکھ لیا۔"

احمد:
"نہیں... ویسے لالا نام واقعی اچھا ہے۔"

راوی:
احمد کے لیے یہ سب بہت عجیب تھا، لیکن کہیں نہ کہیں اسے لالا کا معصوم انداز اچھا لگنے لگا تھا۔


چھٹی کا وقت

(کلاس ختم ہونے کی گھنٹی بجتی ہے۔)

لالا:
"اوہ! چھٹی کا وقت ہو گیا! ٹن ٹن ٹن ٹن!"

(لالا خوشی سے کلاس سے باہر بھاگ جاتی ہے۔)

احمد:
"رکو لالا! باہر مت جاؤ!"

لالا (ہنستے ہوئے):
"ماسٹر، اگر پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو!"

(احمد اس کے پیچھے بھاگتا ہے۔)

راوی:
احمد لالا کو تلاش کر رہا تھا کہ اچانک کچھ سینئر لڑکوں نے اس کا راستہ روک لیا۔


شرارتی لڑکوں سے مقابلہ

تین لڑکے احمد کے سامنے آ گئے۔

لیڈر لڑکا:
"میں نے سوچا تھا تم میں کچھ خاص بات ہوگی، لیکن تم تو بالکل بیکار نکلے۔"

لیڈر لڑکا:
"پتا نہیں لڑکیاں تم جیسے چومو میں کیا دیکھتی ہیں۔"

احمد:
"میرے پاس تم لوگوں کے لیے کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ تم لوگ اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔"

لیڈر لڑکا:
"کیا کہا؟ کیا تم ہمیں چیلنج کر رہے ہو؟"

احمد:
"تم لوگوں میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ میں تمہیں چیلنج سمجھوں۔"

لیڈر لڑکا:
"بہت غرور ہے تم میں!"

(لڑکے احمد پر حملہ کرتے ہیں، لیکن احمد بہت تیزی سے ان کا مقابلہ کرتا ہے۔)

چند لمحوں میں احمد تینوں کو شکست دے دیتا ہے۔

لڑکا:
"یہ... یہ کیسے ہو گیا؟"

احمد:
"اگلی بار کسی کو کمزور سمجھنے سے پہلے سوچ لینا۔"

(تینوں لڑکے ڈر کر وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔)


دوستی کا وعدہ

راوی:
اتوار کے دن احمد لالا کو سیر کے لیے باہر لے گیا۔ دونوں ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔

لالا:
"احمد، میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔"

احمد:
"کس بات کا، لالا؟"

لالا:
"نہیں، مجھے بولنے دو۔"

لالا:
"تم نے میری جان دو بار بچائی ہے۔"

لالا:
"میری زندگی اب تمہاری وجہ سے ہے۔ آج سے میں تمہیں اپنا ماسٹر مانتی ہوں۔ میں ہر خطرے سے تمہاری حفاظت کروں گی۔"

احمد:
"نہیں لالا، ایسا مت کہو۔"

احمد:
"میں تمہارا ماسٹر نہیں ہوں۔ میں نے تمہاری مدد صرف انسانیت کی وجہ سے کی تھی۔"

احمد:
"اب تم آزاد ہو، جو چاہو کر سکتی ہو۔"

لالا (اداس ہو کر):
"کیا اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے پسند نہیں کرتے؟"

احمد:
"نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔"

احمد:
"ہم دوست ہیں۔ اور دوستی میں سب برابر ہوتے ہیں۔"

لالا:
"دوست؟ دوست کیا ہوتا ہے؟"

احمد:
"دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو۔"

احمد:
"جو غلطی پر سمجھائے، مدد کرے اور تمہارے احساسات کی فکر کرے۔"

لالا (خوش ہو کر):
"تو پھر تم میرے دوست ہو!"

لالا:
"تم میرے دوست ہو!"


لالا کی حفاظت

راوی:
کچھ دن بعد وہی لڑکے دوبارہ احمد کو تنگ کرنے آ گئے۔

لیڈر لڑکا:
"کیا تم ہم سے ڈر گئے ہو؟ ایک لڑکی کے پیچھے چھپ رہے ہو؟"

لیڈر لڑکا:
"سامنے آؤ اور ہم سے مقابلہ کرو!"

لالا:
"اگر میرا دوست تم سے لڑنا نہیں چاہتا تو تم اسے بلا وجہ کیوں تنگ کر رہے ہو؟"

لیڈر لڑکا:
"بچے، تم اس بزدل میں کیا دیکھتی ہو؟ اسے دوست کہتی ہو؟"

لالا:
"ہاں، یہ میرا دوست ہے۔"

لالا:
"اور اگر تمہیں احمد سے لڑنا ہے تو پہلے تمہیں مجھ سے مقابلہ کرنا ہوگا۔"

لیڈر لڑکا:
"کیا؟ ایک لڑکی سے لڑنے میں کوئی مزہ نہیں۔"

لالا:
"کوشش کر کے دیکھ لو۔ میں تمہیں احمد تک پہنچنے نہیں دوں گی۔"

احمد:
"لالا، تمہیں ان سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چھوڑ دو۔"

لالا:
"نہیں!"

لالا:
"تم نے میری کئی بار حفاظت کی ہے، اب میری باری ہے۔"

لالا:
"اگر کوئی خطرہ تمہارے پاس آئے گا تو پہلے اسے میرا سامنا کرنا ہوگا۔"

لالا:
"تم نے کہا تھا دوست ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔"

لالا:
"اب یا تو مقابلہ کرو یا یہاں سے چلے جاؤ!"

(لالا حیرت انگیز رفتار سے تینوں لڑکوں کو شکست دے دیتی ہے۔)

احمد (حیرت سے):
"لالا... تم اتنی طاقتور ہو؟"

راوی:
احمد پہلی بار لالا کی اصل طاقت دیکھ کر حیران رہ گیا۔


نئے چاند کا راز

راوی:
رات کو گھر واپس آنے کے بعد احمد نے محسوس کیا کہ لالا کچھ پریشان ہے۔

احمد:
"کیا ہوا لالا؟ آج تم اتنی خاموش کیوں ہو؟"

لالا:
"احمد، کیا تم نئے چاند کی روشنی کے بارے میں جانتے ہو؟"

احمد:
"ہاں، جب چاند پوری طرح روشن ہوتا ہے۔"

لالا:
"آج رات وہ وقت آنے والا ہے۔"

احمد:
"کیا مطلب؟"

لالا:
"اس رات میں اپنی اصل شکل میں واپس آ جاتی ہوں۔"

لالا:
"میری طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، لیکن میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتی۔"

لالا:
"مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں تمہیں نقصان نہ پہنچا دوں۔"

احمد:
"لالا، فکر مت کرو۔ ہم اس کا کوئی حل ضرور نکالیں گے۔"


چھپا ہوا راز

راوی:
لیکن احمد اور لالا کو معلوم نہیں تھا کہ کوئی اور بھی ان کی بات سن رہا تھا۔

گھر میں چھپا ہوا ایک چور ان کی گفتگو سن چکا تھا۔

چور (دل میں):
"تو یہ لڑکی ہی وہ سرخ لومڑی ہے؟"

چور:
"اگر میں اس کا راز سب کو بتا دوں تو مجھے بہت بڑا انعام مل سکتا ہے۔"

راوی:
اب لالا کا راز خطرے میں تھا، اور نئے چاند کی رات ایک نئی مشکل لے کر آنے والی تھی۔

جاری ہے...

Saving Lala: The Red Fox Series Ep #2

 

سرخ لومڑی کا راز: احمد اور لالا کی دوبارہ ملاقات

راوی:
ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ احمد کی زندگی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ سرخ لومڑی سے ملاقات کے بعد اس کے اندر بہت تبدیلی آ گئی تھی۔ اب وہ دوسروں کے احساسات کو سمجھنے لگا تھا اور پہلے کی طرح مغرور نہیں رہا تھا۔

ایک دن احمد کلاس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کچھ طالب علم آپس میں باتیں کرنے لگے۔

طالب علم 1:
"کیا تم لوگوں نے سنا؟ کل رات جنگل میں کچھ عجیب ہوا ہے۔"

طالب علم 2:
"ہاں، وہی سرخ لومڑی دوبارہ دیکھی گئی ہے۔"

طالب علم 1:
"لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے اس پر گولیاں بھی چلائیں۔"

طالب علم 2:
"کہتے ہیں شاید وہ اب زندہ بھی نہ ہو۔"

(یہ سن کر احمد حیران رہ جاتا ہے۔)

احمد (دل میں):
"نہیں... ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ زندہ ہے۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا۔"

کلاس ختم ہوتے ہی احمد فوراً جنگل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔

راوی:
احمد جنگل میں پہنچ کر ہر طرف تلاش کرنے لگا۔ اچانک اسے زمین پر خون کے نشان نظر آئے۔

احمد:
"یہ خون... نہیں، لالا! تم کہاں ہو؟"

وہ پریشانی میں جنگل کے اندر مزید آگے بڑھتا گیا۔

کافی تلاش کے بعد اسے سرخ لومڑی ایک درخت کے پاس زخمی حالت میں ملی۔

احمد:
"تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ میں تمہیں بچا لوں گا۔"

احمد فوراً اس کے زخموں پر پٹی باندھتا ہے۔

اسی وقت کچھ لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

آدمی 1:
"وہ رہی لومڑی! اسے پکڑ لو!"

آدمی 2:
"حکومت کا انعام ہمارا ہوگا۔"

احمد ان لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

احمد:
"تم لوگ اسے کہیں نہیں لے جا سکتے۔"

آدمی 1:
"تم کون ہوتے ہو اسے بچانے والے؟ ہٹو ہمارے راستے سے۔"

احمد:
"یہ کوئی چیز نہیں، ایک زندہ مخلوق ہے۔"

(احمد ان کا مقابلہ کرتا ہے اور لومڑی کو لے کر وہاں سے نکل جاتا ہے۔)


لالا کی آنکھ کھلنا

راوی:
دو دن گزر گئے۔ سرخ لومڑی ایک کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ اچانک اس نے آنکھیں کھولیں۔

وہ اب اپنی انسانی شکل میں واپس آ چکی تھی۔

لالا (دل میں):
"آہ... میں کہاں ہوں؟"

لالا:
"میرے ساتھ کیا ہوا؟"

(وہ اٹھ کر کمرے کو دیکھتی ہے۔)

اس کی نظر احمد پر پڑتی ہے جو قریب ہی سو رہا تھا۔

لالا آہستہ آہستہ احمد کے قریب جاتی ہے، لیکن اچانک احمد کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

احمد:
"تم ٹھیک ہو؟"

(لالا گھبرا جاتی ہے۔)

لالا:
"ہاں... میں ٹھیک ہوں۔ لیکن میرے ساتھ کیا ہوا؟"

احمد:
"کیا تم مذاق کر رہی ہو؟"

احمد:
"اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو آج تم زندہ نہ ہوتیں۔"

لالا:
"اوہ... ہاں، اب مجھے یاد آ رہا ہے۔"

احمد:
"تم دو دن سے بے ہوش تھیں۔ آخرکار تمہیں ہوش آ گیا۔"

لالا (حیرت سے):
"کیا؟ میں دو دن تک بے ہوش تھی؟"

احمد:
"ہاں، اور کیا؟"

لالا:
"مجھے یقین نہیں آ رہا۔"


احمد کا خاندان

راوی:
اسی وقت احمد کے والدین کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔

لالا انہیں دیکھ کر گھبرا جاتی ہے۔

لالا:
"یہ کون ہیں؟"

لالا:
"یہ لوگ کون ہیں؟"

احمد:
"گھبراؤ نہیں۔ یہ میرے والدین ہیں۔"

احمد:
"امی، ابو، یہ میری دوست ہے۔"

احمد کی والدہ:
"دوست؟"

(وہ حیرت سے احمد کو دیکھتی ہیں۔)

احمد کی والدہ:
"ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ احمد کسی کے لیے اتنا پریشان ہوا ہو۔"

احمد کے والد:
"بیٹا، تم نے واقعی کسی کی جان بچائی ہے۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔"

لالا آہستہ آہستہ احمد کے خاندان کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔

وہ گھر میں خوشی سے ادھر ادھر گھومتی ہے اور سب سے باتیں کرنے لگتی ہے۔

احمد کی والدہ (مسکرا کر):
"یہ لڑکی بہت پیاری ہے۔"

احمد:
"ہاں، یہ واقعی بہت خاص ہے۔"


لالا کا نیا نام

راوی:
کچھ دن بعد احمد کو کالج جانا تھا۔

احمد:
"میں کالج جا رہا ہوں، لیکن تم گھر میں رہنا۔ باہر مت جانا۔"

لالا:
"کیوں؟"

احمد:
"کیونکہ ابھی تم محفوظ نہیں ہو۔ اگر کسی کو تمہارے بارے میں پتا چل گیا تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔"

لالا:
"ٹھیک ہے، میں تمہاری بات مانوں گی۔"

احمد گھر سے نکل جاتا ہے۔

راستے میں وہ سوچنے لگتا ہے۔

احمد (دل میں):
"اس کا کوئی نام ہونا چاہیے۔"

احمد:
"لالا... یہ نام اس پر اچھا لگے گا۔"


حیران کن ملاقات

راوی:
احمد کالج پہنچا اور کلاس میں بیٹھ گیا۔

کچھ دیر بعد استاد اندر آئے۔

استاد:
"طلبہ، آج ہماری کلاس میں ایک نئی طالبہ شامل ہو رہی ہے۔"

استاد:
"اس کا نام لالا ہے۔"

(احمد حیرت سے دروازے کی طرف دیکھتا ہے۔)

وہی لڑکی اندر آتی ہے جسے وہ گھر پر چھوڑ کر آیا تھا۔

احمد اپنی جگہ سے کھڑا ہو جاتا ہے۔

احمد (حیرت سے):
"لالا؟"

(لالا مسکرا کر احمد کی طرف دیکھتی ہے۔)

لالا:
"ہیلو احمد۔"

احمد (دل میں):
"یہ یہاں کیسے آ گئی؟ اور سب سے عجیب بات... اس کا نام بھی وہی ہے جو میں نے سوچا تھا۔"

راوی:
احمد کو اندازہ ہو گیا کہ لالا صرف ایک عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کے ماضی، اس کی طاقت اور اس کے راز کے پیچھے ابھی بہت کچھ چھپا ہوا تھا۔

جاری ہے...

Saving Lala: The Red Fox Series Ep #1

سرخ لومڑی کا راز: احمد اور پراسرار لومڑی

راوی:
احمد اپنے اسکول کا سب سے خوبصورت لڑکا تھا، لیکن اس کے اندر ایک بڑی خامی تھی۔ وہ بہت مغرور تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ سب سے بہتر ہے، اسی لیے وہ دوسروں سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا اور اکثر اپنے دوستوں کو بھی نظر انداز کر دیتا تھا۔

ایک دن اچانک ٹی وی پر ایک عجیب خبر نشر ہوئی۔

نیوز رپورٹر:
"جنگل سے ایک پراسرار مخلوق کے نظر آنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی سرخ لومڑی ہے جو انسانوں کی طرح دو ٹانگوں پر چلتی ہے۔ حکومت نے اس لومڑی کو پکڑنے والے کے لیے ایک لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔"

احمد:
"یہ سب فضول باتیں ہیں۔ بھلا ایسی مخلوقات بھی کہیں ہوتی ہیں؟"

اگلے دن اسکول میں ہر طرف اسی لومڑی کی بات ہو رہی تھی۔ احمد کا دوست سعد بھی اس کے پاس آیا۔

سعد:
"احمد، کیا تم نے کل کی خبر سنی؟ جنگل والی لومڑی کے بارے میں؟"

احمد:
"ہاں، سنی ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب حقیقت ہے۔ لوگ بس عجیب کہانیاں بنا لیتے ہیں۔"

سعد:
"لیکن بہت سے لوگوں نے اسے دیکھا ہے۔"

احمد:
"لوگوں کے پاس اور کوئی کام نہیں۔"

یہ کہہ کر احمد وہاں سے چلا گیا۔ حالانکہ سعد اس کا دوست تھا، لیکن احمد کبھی اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تھا۔

کچھ دیر بعد ایک طالب علم نے سب کو بتایا۔

طالب علم:
"کیا تم لوگوں کو پتا ہے؟ حکومت نے اس لومڑی کو پکڑنے کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا ہے۔"

احمد (دل میں):
"کتنی عجیب بات ہے۔ لوگ صرف اس لیے کسی جانور کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان سے مختلف ہے۔ میں ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔"

اسی دن جب احمد گھر واپس آیا تو اس نے اپنے والدین کو پریشان بات کرتے سنا۔

احمد کے والد:
"ہمارے اوپر دس ہزار روپے کا قرض ہے۔ اگر ہم نے یہ واپس نہ کیا تو مکان کا مالک ہمیں گھر سے نکال سکتا ہے۔"

احمد کی والدہ:
"لیکن ہم اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے؟"

احمد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔

احمد (دل میں):
"میرے والدین اتنے پریشان ہیں اور میں ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔"

پھر اسے اسکول میں سنا ہوا انعام یاد آیا۔

احمد:
"اگر میں اس لومڑی کو پکڑ لوں تو مجھے ایک لاکھ روپے مل سکتے ہیں۔ اس سے میں اپنے خاندان کی مدد کر سکوں گا۔"

احمد نے اپنا بیگ تیار کیا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔

کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد وہ جنگل کے اندر ایک جگہ پہنچا اور وہاں اپنا خیمہ لگا لیا۔ رات کے ایک بجے اچانک اسے باہر سے آواز سنائی دی۔

احمد:
"یہ آواز کیسی ہے؟"

وہ لکڑی اٹھا کر آہستہ آہستہ باہر نکلا۔ وہاں ایک بڑی اور خوبصورت سرخ لومڑی کھڑی تھی۔ وہ بری طرح زخمی تھی۔

احمد:
"تو یہ کہانی سچ تھی۔"

احمد نے کچھ لمحوں کے لیے سوچا۔

احمد:
"میں تمہیں پکڑ کر انعام حاصل کر سکتا ہوں، لیکن تم ایک بے زبان مخلوق ہو اور تمہیں مدد کی ضرورت ہے۔"

احمد لومڑی کو اپنے خیمے میں لے آیا اور اس کے زخموں کا علاج کیا۔

اگلے پانچ دن احمد اور لومڑی ایک ساتھ رہے۔ احمد اس کی دیکھ بھال کرتا رہا اور آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان دوستی ہو گئی۔

احمد:
"پتا نہیں کیوں، لیکن مجھے لگتا ہے تم باقی جانوروں سے مختلف ہو۔"

پانچ دن بعد احمد کو گھر واپس جانا تھا۔

احمد:
"مجھے جانا ہوگا۔ میرے والدین میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔"

جیسے ہی احمد جانے لگا، اچانک سرخ لومڑی کے جسم سے ایک روشن روشنی نکلنے لگی۔ احمد حیرت سے پیچھے ہٹ گیا۔

احمد:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

چند لمحوں بعد وہ لومڑی ایک خوبصورت لڑکی میں تبدیل ہو گئی۔

احمد:
"تم... تم کون ہو؟"

لومڑی لڑکی:
"میں وہی ہوں جسے تم اتنے دنوں سے لومڑی سمجھ رہے تھے۔"

احمد:
"یہ کیسے ممکن ہے؟"

لومڑی لڑکی:
"دنیا میں بہت سے راز ہیں جنہیں ہر کوئی نہیں جان سکتا۔"

لومڑی لڑکی:
"احمد، مت جاؤ۔ کیا تمہارا جانا اتنا ضروری ہے؟"

احمد:
"ہاں، مجھے جانا ہوگا۔ میرا خاندان میرا انتظار کر رہا ہے۔"

لومڑی لڑکی:
"میں جانتی ہوں کہ تم یہاں مجھے پکڑنے آئے تھے، جیسے باقی لوگ آئے تھے۔"

لومڑی لڑکی:
"لیکن تم نے مجھے نقصان نہیں پہنچایا بلکہ میری مدد کی۔ اسی لیے میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتی ہوں۔"

وہ اپنے بالوں میں سے کچھ بال نکال کر احمد کو دیتی ہے۔

احمد:
"یہ کیا ہے؟"

لومڑی لڑکی:
"یہ بال لے جاؤ اور انہیں بیچ دو۔ جو پیسے ملیں گے وہ تمہارے خاندان کی مشکل دور کرنے میں مدد کریں گے۔"

احمد:
"لیکن تمہیں میرے خاندان کے بارے میں کیسے معلوم؟"

لومڑی لڑکی:
"بس اتنا سمجھ لو کہ کچھ چیزیں آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھی جاتی ہیں۔"

لومڑی لڑکی:
"امید ہے ہم دوبارہ ملیں گے۔"

احمد:
"ہاں، مجھے بھی یقین ہے کہ ہماری ملاقات دوبارہ ہوگی۔"

یہ کہہ کر وہ پراسرار لڑکی غائب ہو گئی۔

احمد واپس گھر آیا اور ان بالوں کو بیچ دیا۔ اسے پچاس ہزار روپے ملے۔ اس رقم سے اس نے اپنے خاندان کا قرض ادا کیا اور ان کی مشکل وقت میں مدد کی۔

احمد کو احساس ہو گیا کہ اصل خوبصورتی شکل میں نہیں بلکہ دل میں ہوتی ہے۔ جس لڑکی کو وہ ایک انعام سمجھ کر پکڑنے گیا تھا، وہی اس کی زندگی بدلنے والی دوست بن گئی۔

لیکن سرخ لومڑی کا راز ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوا تھا۔

جاری ہے...

The Princess and the Secret Beast: Last Ep

 

زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: آخری جنگ

راوی:
کرسٹل غار کے اندر آخری مقابلے کا وقت آ چکا تھا۔ ایک طرف زوہیا تھی، جس کے پاس اپنے دوستوں کی محبت اور ہمت تھی، اور دوسری طرف خطرناک جادوگرنی یونالیسہ تھی، جو پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتی تھی۔

زوہیا کو یاد آ رہا تھا کہ کس طرح یونالیسہ نے اسے قید کیا، اس کے دوستوں کو نقصان پہنچایا اور سب کی زندگی خطرے میں ڈال دی۔ یہی یادیں اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا کر رہی تھیں۔

یونالیسہ:
"تم سمجھتی ہو کہ تم مجھے شکست دے سکتی ہو؟ میں صدیوں سے طاقتور ہوں۔ میرے سامنے تمہاری یہ معمولی طاقت کچھ بھی نہیں۔"

زوہیا:
"طاقت صرف جادو سے نہیں آتی، یونالیسہ۔ اصل طاقت ہمت، دوستی اور سچائی میں ہوتی ہے۔"

(دونوں کے درمیان زبردست مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یونالیسہ اپنے کالے جادو سے حملے کرتی ہے، لیکن زوہیا ہر بار خود کو بچا لیتی ہے۔)

یونالیسہ:
"ناممکن! ایک عام لڑکی میرے جادو کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟"

زوہیا:
"کیونکہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ میرے ساتھ میرے دوستوں کی طاقت ہے۔"

(ایک موقع پر زوہیا تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور یونالیسہ کے ہاتھ سے اس کا جادوئی عصا چھین لیتی ہے۔)

زوہیا (عصا کو دیکھتے ہوئے):
"تو یہ ہے وہ چیز؟"

زوہیا:
"یہ وہ چیز ہے جس کے سہارے تم اتنی مغرور بنتی تھیں؟"

(یونالیسہ کا چہرہ خوف سے بدل جاتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اب اس کی طاقت ختم ہونے والی ہے۔)

یونالیسہ:
"نہیں! نہیں! ایسا مت کرو!"

یونالیسہ:
"اسے مت توڑو۔ براہِ کرم مجھے واپس دے دو۔"

یونالیسہ:
"میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں یہ جگہ چھوڑ دوں گی۔ میں کبھی واپس نہیں آؤں گی۔"

زوہیا:
"ہاں، تم یہاں سے جاؤ گی..."

زوہیا:
"لیکن اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے۔"

(زوہیا پوری طاقت سے جادوئی عصا توڑ دیتی ہے۔)

راوی:
جیسے ہی عصا ٹوٹا، ایک زبردست سیاہ دھماکا ہوا جس کی آواز پورے اولینیا شہر میں گونج گئی۔ یونالیسہ کا جسم ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔

یونالیسہ:
"نہیں! میری طاقت... میری ہمیشہ کی زندگی..."

(چند لمحوں میں یونالیسہ ختم ہو جاتی ہے اور اس کا کالا جادو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔)


جنگ کے بعد

راوی:
جنگ ختم ہو چکی تھی، لیکن زوہیا کو ابھی اپنے دوستوں کی فکر تھی۔ وہ جلدی سے رانیہ اور سوزاکی کے پاس پہنچی۔

(دونوں بے ہوش تھے۔)

زوہیا:
"رانیہ! سوزاکی! آنکھیں کھولو!"

(کچھ کوشش کے بعد دونوں ہوش میں آ جاتے ہیں۔)

رانیہ:
"زوہیا... کیا ہم جیت گئے؟"

زوہیا:
"ہاں، ہم جیت گئے۔"

(اچانک زوہیا کی نظر سیاہ چیتے پر پڑتی ہے جو زمین پر بے حرکت پڑا تھا۔)

زوہیا (گھبرا کر):
"نہیں..."

زوہیا:
"سوزاکی، دیکھو! یہ آنکھیں نہیں کھول رہا۔"

(زوہیا چیتے کے قریب جاتی ہے۔)

زوہیا:
"نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔"

زوہیا:
"تم نے مجھے اتنی بار بچایا، اب میں تمہیں نہیں کھو سکتی۔"

(وہ محسوس کرتی ہے کہ چیتا سانس نہیں لے رہا۔ زوہیا کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔)


شہزادے کی واپسی

راوی:
صبح کا سورج جنگل پر طلوع ہونے لگا۔ جیسے ہی روشنی پھیلی، سیاہ چیتے کے جسم سے ایک روشن روشنی نکلنے لگی۔

(چیتا آہستہ آہستہ ہوا میں بلند ہونے لگا۔)

رانیہ:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

سوزاکی:
"یہ... یہ جادو کا آخری اثر ہے۔"

(روشنی ختم ہوتی ہے اور چیتا دوبارہ ایک انسان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔)

زوہیا:
"شہزادہ لیمن شاہ..."

راوی:
لیمن شاہ اپنی اصل انسانی شکل میں واپس آ چکا تھا، لیکن وہ ابھی بھی بے ہوش تھا اور سانس نہیں لے رہا تھا۔


محبت کا معجزہ

سوزاکی:
"ہم جیت گئے ہیں..."

سوزاکی:
"لیکن وہ اتنی مشکل کے بعد بھی ہمیں چھوڑ نہیں سکتا۔"

(زوہیا لیمن شاہ کا سر اپنی گود میں رکھ لیتی ہے۔)

زوہیا:
"آپ نے میری حفاظت کی، میرے دوستوں کو بچایا۔"

زوہیا:
"میں آپ کو ایسے نہیں جانے دوں گی۔"

(زوہیا روتے ہوئے ایک آنسو بہاتی ہے جو لیمن شاہ کے چہرے پر گرتا ہے۔)

(اچانک لیمن شاہ زور سے سانس لیتا ہے۔)

سوزاکی اور رانیہ:
"وہ سانس لے رہا ہے!"

رانیہ:
"وہ زندہ ہے!"

(لیمن شاہ آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتا ہے۔)

لیمن شاہ:
"میں... کہاں ہوں؟"

لیمن شاہ:
"تم لوگ کون ہو؟"

(سب حیران رہ جاتے ہیں۔)

رانیہ:
"ایک منٹ... کیا اس کی یادداشت ختم ہو گئی ہے؟"

سوزاکی:
"شاید یونالیسہ کے ختم ہوتے ہی اس کے جادو کا اثر بھی ختم ہو گیا۔"

سوزاکی:
"وہ تمام یادیں جو اس لعنت کے دوران تھیں، شاید اس کے ذہن سے مٹ گئی ہیں۔"

زوہیا (مسکرا کر آنسو صاف کرتے ہوئے):
"کوئی بات نہیں۔"

زوہیا:
"کم از کم وہ زندہ ہے۔"

زوہیا:
"چاہے وہ مجھے یاد نہ رکھے، لیکن وہ ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہے گا۔"


اختتام

راوی:
زوہیا خوش تھی کہ شہزادہ لیمن شاہ دوبارہ انسان بن گیا تھا۔ اگرچہ وہ ان کے ساتھ گزارا ہوا سفر بھول چکا تھا، لیکن ان کی محبت اور قربانی ہمیشہ قائم رہے گی۔

(اسی وقت ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر وہاں پہنچتا ہے۔)

رانیہ:
"آخرکار ہم گھر واپس جا رہے ہیں۔"

سوزاکی:
"لیکن یہ سفر ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔"

زوہیا:
"کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ ہمیشہ دل میں زندہ رہتی ہیں۔"

راوی:
اور یوں شہزادی زوہیا، سیاہ چیتے کے راز، اور یونالیسہ کی تاریکی کی کہانی اختتام کو پہنچی۔

اختتام

The Princess and the Secret Beast: Ep # 6

زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: کرسٹل غار کا سفر

راوی:
صبح کا وقت تھا۔ سورج کی روشنی جنگل میں پھیل رہی تھی۔ محفوظ مقام پر زوہیا گہری نیند میں سو رہی تھی کہ رانیہ نے اسے جگایا۔

رانیہ:
"زوہیا! اٹھو! صبح ہو گئی ہے۔ دیکھو، کتنا خوبصورت دن ہے۔ سورج نکل آیا ہے۔"

زوہیا (آنکھیں کھولتے ہوئے):
"رانیہ؟ میں یہاں کیسے آئی؟"

زوہیا:
"اور وہ سیاہ چیتا کہاں ہے؟"

رانیہ:
"وہ باہر سوزاکی کے ساتھ ہے۔ فکر مت کرو، اب وہ ہمارے دشمن نہیں بلکہ دوست ہیں۔"

رانیہ:
"اگر وہ اور سوزاکی نہ ہوتے تو ہم یونالیسہ کے قبضے سے کبھی آزاد نہ ہو پاتے۔"

زوہیا:
"مجھے پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ میں اسے پہلے سے جانتی ہوں۔"

رانیہ:
"کسے؟ چیتے کو؟"

زوہیا:
"ہاں۔ جب بھی میں اسے دیکھتی ہوں، میرے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جیسے وہ میرے بارے میں کچھ جانتا ہو۔"


شہزادہ لیمن شاہ کا راز

راوی:
رات کے آخری پہر، جب لیمن شاہ اپنی انسانی شکل میں تھا، وہ اور سوزاکی اگلے قدم کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

لیمن شاہ:
"زوہیا کی بیسویں سالگرہ کل ہے۔ اگر ہم اسے کل سورج غروب ہونے تک محفوظ رکھ سکے تو یونالیسہ ہمیشہ کے لیے اس پر اپنی طاقت کھو دے گی۔"

سوزاکی:
"لیکن آقا، یونالیسہ اتنی آسانی سے خاموش نہیں بیٹھے گی۔"

سوزاکی:
"وہ بہت چالاک ہے۔ اس نے پہلے ہی جوجو کو ہماری تلاش میں بھیج دیا ہے۔"

لیمن شاہ:
"مجھے معلوم ہے۔ ہمیں جلدی کرنا ہوگی۔"

لیمن شاہ:
"ہمیں کرسٹل غار کی طرف جانا ہوگا۔ اس غار کی دیواروں پر جادوئی طاقت ہے جو ہمیں یونالیسہ کی تاریک جادوئی نظروں سے چھپا سکتی ہے۔"

سوزاکی:
"تو پھر ہمیں فوراً روانہ ہونا چاہیے۔"


سفر اور رانیہ سوزاکی کی نوک جھونک

راوی:
سب لوگ کرسٹل غار کی طرف روانہ ہو گئے۔ سفر کے دوران ہمیشہ کی طرح رانیہ اور سوزاکی کی بحث شروع ہو گئی۔

رانیہ:
"ارے! ذرا آہستہ چلو۔ کیا تمہیں لگتا ہے ہمارے بھی تمہارے چیتے جیسے پنجے ہیں؟"

سوزاکی:
"اگر تم کم باتیں کرو تو شاید تمہارے اندر زیادہ طاقت بچ جائے، بھوتنی!"

رانیہ:
"دوبارہ مجھے بھوتنی کہا تو میں تمہیں یہیں چھوڑ دوں گی تاکہ وہ گدھ تمہیں کھا جائیں۔"

سوزاکی:
"تم صرف دھمکیاں دیتی ہو۔"

رانیہ:
"اور تم صرف مغرور بنتے ہو۔"

(دونوں کو بحث کرتے دیکھ کر زوہیا مسکرا دیتی ہے۔)

زوہیا (چیتے سے):
"مجھے معلوم ہے تم میری بات سمجھ سکتے ہو۔"

زوہیا:
"میری جان بچانے کے لیے شکریہ۔ جب میں تمہارے قریب ہوتی ہوں تو مجھے محفوظ محسوس ہوتا ہے۔"


جوجو کا دھوکہ

راوی:
دوسری طرف یونالیسہ کا بھیجا ہوا سیاہ سایہ جوجو زوہیا کو دھوکہ دینے کے لیے اس کی ماں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

جوجو (زوہیا کی ماں کی شکل میں):
"زوہیا... میری بیٹی... یہاں آؤ!"

زوہیا:
"امی؟"

زوہیا:
"آپ یہاں کیسے آ گئیں؟"

جوجو:
"بیٹی، میں تمہیں تلاش کرتے ہوئے یہاں تک آئی ہوں۔"

جوجو:
"جلدی آؤ، ہمیں یہاں سے چھپنا ہوگا، اس سے پہلے کہ وہ جادوگرنی ہمیں تلاش کر لے۔"

زوہیا:
"امی، آپ ٹھیک ہیں نا؟"

جوجو:
"ہاں بیٹی، بس میرے ساتھ چلو۔"

راوی:
زوہیا اپنی ماں کو سمجھ کر جوجو کے پیچھے جنگل کی گھنی جھاڑیوں میں چلی گئی، جہاں وہ سب سے دور ہو گئی۔


خطرے کا احساس

راوی:
سیاہ چیتے کو فوراً خطرے کا احساس ہو گیا۔ اس نے زور دار دھاڑ ماری۔

سوزاکی:
"زوہیا کہاں ہے؟"

رانیہ:
"کیا؟ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہے؟"

سوزاکی:
"آقا نے کہا تھا کہ یہ ایک جال ہو سکتا ہے۔"

رانیہ (غصے سے):
"تم لوگوں نے اسے اپنی نظروں سے کیسے دور ہونے دیا؟ ہمیں فوراً اسے تلاش کرنا ہوگا!"

(لیمن شاہ چیتے کی شکل میں زور سے دھاڑتا ہے اور زوہیا کے راستے کا پیچھا شروع کر دیتا ہے۔)


یونالیسہ کی خوشی

راوی:
بلیک ویلی میں یونالیسہ اپنے جادوئی کرسٹل سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔

یونالیسہ:
"ہاں... جوجو، اسے میرے پاس لے آؤ۔"

یونالیسہ:
"جیسے ہی وہ سائے کے دائرے میں قدم رکھے گی، اس کی زندگی کی طاقت میری ہو جائے گی۔"

ٹویا ٹویا:
"آپ پچھلی کئی قسطوں سے کہہ رہی ہیں کہ سب کچھ آپ کا ہوگا۔ مجھے میری بادشاہت کب ملے گی؟"

یونالیسہ:
"خاموش رہو، بے وقوف مخلوق!"

یونالیسہ:
"جب میں ہمیشہ کے لیے طاقتور بن جاؤں گی تو تمہیں جو چاہو مل جائے گا۔"

یونالیسہ:
"اب جاؤ اور قربانی کی جگہ تیار کرو۔"


سائے کے دائرے میں جنگ

راوی:
جوجو زوہیا کو لے کر سائے کے دائرے کے قریب پہنچ گیا۔

جوجو:
"بس تھوڑا سا اور آگے، پھر تمہاری طاقت ہماری ہوگی۔"

زوہیا:
"امی... مجھے کچھ عجیب محسوس ہو رہا ہے۔"

(اچانک سیاہ چیتا چھلانگ لگا کر جوجو پر حملہ کرتا ہے۔)

زوہیا:
"کیا؟"

راوی:
جوجو کی ماں والی شکل ختم ہو جاتی ہے اور اس کی اصل خوفناک شکل سامنے آ جاتی ہے۔

زوہیا:
"تم... تم میری ماں نہیں ہو!"

زوہیا:
"تم ایک عفریت ہو!"

جوجو:
"اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ تم پہلے ہی جادوگرنی کی طاقت کے دائرے میں آ چکی ہو۔"

(چیتے اور جوجو کے درمیان زبردست مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔)

رانیہ:
"زوہیا!"

سوزاکی:
"ہم وقت پر پہنچ گئے۔"

(سوزاکی چمونی بابا کا دیا ہوا حفاظتی تعویذ نکالتا ہے۔)

سوزاکی:
"یہ طاقت تمہیں دور کر دے گی، جوجو!"

(تعویذ کی روشنی سے جوجو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔)


زوہیا کی واپسی

رانیہ:
"زوہیا! تم ٹھیک ہو؟"

رانیہ:
"آئندہ کبھی اکیلی کہیں مت جانا۔"

زوہیا:
"مجھے معاف کر دو۔ مجھے لگا تھا وہ واقعی میری ماں ہیں۔"

زوہیا (چیتے کی طرف دیکھتے ہوئے):
"تم نے مجھے پھر بچا لیا۔ شکریہ۔"


کرسٹل غار کا راز

راوی:
آخرکار سب لوگ کرسٹل غار کے دروازے تک پہنچ گئے۔ لیکن اسی وقت آسمان کا رنگ بدلنے لگا۔ گہرا جامنی سایہ پورے جنگل پر چھا گیا۔

سوزاکی:
"یہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔"

سوزاکی:
"یونالیسہ بہت بڑا جادو کر رہی ہے۔"

سوزاکی:
"ہمیں کل شام تک اس غار کے اندر رہنا ہوگا۔"

(سورج غروب ہونے لگتا ہے اور لیمن شاہ دوبارہ انسانی شکل میں آ جاتا ہے۔)

لیمن شاہ:
"زوہیا..."

زوہیا:
"شہزادہ؟"

لیمن شاہ:
"تمہاری گردن کا نشان پہلے سے زیادہ روشن ہو رہا ہے۔"

لیمن شاہ:
"اس کا مطلب ہے کہ یونالیسہ بہت قریب ہے۔"

(اچانک جنگل میں یونالیسہ کی خوفناک ہنسی گونجنے لگتی ہے۔)

یونالیسہ:
"تم لوگ کہیں بھی چھپ جاؤ... میں تمہیں تلاش کر لوں گی!"

راوی:
آخری مقابلہ قریب تھا۔ زوہیا کے نشان کا راز، لیمن شاہ کی قسمت اور یونالیسہ کی طاقت کا فیصلہ اب ہونے والا تھا۔

جاری ہے... 

The Princess and the Secret Beast: Ep # 5

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: سیاہ چیتے کا بھید

راوی:
کہانی کا آغاز رانیہ کے گھبرا کر جاگنے سے ہوتا ہے۔ وہ خود کو ایک انجان جگہ پر دیکھتی ہے اور حیران ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے سوزاکی موجود ہے۔

رانیہ:
"میں کہاں ہوں؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"

سوزاکی:
"ارے، تم جاگ گئی ہو۔ اچھا ہوا! لیکن بتاؤ، زوہیا کہاں ہے؟"

رانیہ (حیرت سے):
"ایک منٹ... تم وہی ہو نا جس سے میری مقابلے میں ملاقات ہوئی تھی؟"

سوزاکی:
"اوہ! تو تم وہی بھوتنی ہو۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ چہرہ اتنا جانا پہچانا کیوں لگ رہا ہے۔"

رانیہ (غصے سے):
"کیا کہا؟ تم نے مجھے پھر بھوتنی کہا؟"

سوزاکی:
"میں نے تو بس پہچانا ہے۔"

(اچانک جنگل میں ایک خوفناک دھاڑ سنائی دیتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ آواز کیسی ہے؟"

سوزاکی:
"یہ تو..."

(سوزاکی فوراً باہر کی طرف جاتا ہے۔ رانیہ بھی اس کے پیچھے جاتی ہے اور ایک سیاہ چیتے کو دیکھتی ہے۔)

رانیہ (خوفزدہ ہو کر):
"یہ چیتا تو بہت خطرناک لگ رہا ہے! ایسا لگتا ہے کئی دنوں سے بھوکا ہے۔ جلدی یہاں سے بھاگو!"

(رانیہ سوزاکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچتی ہے اور دروازہ بند کر دیتی ہے۔)

رانیہ:
"کیا تمہیں شکار بننے کا شوق ہے؟ کیا تم خود کو کوئی بڑا ہیرو سمجھتے ہو؟"

سوزاکی (مسکراتے ہوئے):
"میں یہاں کافی عرصے سے رہ رہا ہوں، اور وہ چیتا میرا دوست ہے۔"

رانیہ:
"کیا؟ چیتا تمہارا دوست ہے؟ تمہیں مذاق کرنے کے لیے کوئی اور نہیں ملا؟"

سوزاکی:
"اگر یقین نہیں تو خود دیکھ لو۔"

(سوزاکی باہر جاتا ہے۔ چیتا اسے نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اس کے پاس آتا ہے۔ سوزاکی اسے پیار کرتا ہے اور اس کے کان میں کچھ کہتا ہے۔ پھر وہ چیتے کی پشت پر بیٹھ جاتا ہے۔)

رانیہ (حیرت سے):
"یہ کیسے ممکن ہے؟"

سوزاکی:
"ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی نظر آتی ہے۔"

رانیہ:
"مجھے یقین نہیں آ رہا۔"

(آخرکار رانیہ بھی چیتے کے پاس جاتی ہے اور دونوں چیتے کے ساتھ جنگل کی سیر کرتے ہیں۔)


سیاہ چیتے کا راز

راوی:
رات ہو گئی۔ سوزاکی کھانے کا انتظام کرنے کے لیے چلا گیا، جبکہ رانیہ جنگل میں گھومتے ہوئے ایک چھوٹی سی غار تک پہنچ گئی۔

رانیہ:
"یہ غار یہاں کیسے ہے؟ شاید اندر کچھ راز چھپا ہوا ہے۔"

(اچانک رانیہ دیکھتی ہے کہ سیاہ چیتے کے جسم سے ایک روشنی نکل رہی ہے۔)

رانیہ:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

(چیتا آہستہ آہستہ ایک خوبصورت نوجوان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔)

رانیہ:
"یہ... یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک چیتا انسان کیسے بن سکتا ہے؟"

(حیرت اور خوف سے رانیہ بے ہوش ہو جاتی ہے۔)

(سوزاکی واپس آتا ہے۔)

سوزاکی:
"رانیہ! رانیہ! تم کہاں ہو؟"

(وہ اسے زمین پر بے ہوش دیکھتا ہے۔)

لیمن شاہ:
"اس نے مجھے اپنی اصل شکل میں دیکھ لیا ہے۔ اسی لیے یہ بے ہوش ہو گئی۔"


زوہیا یونالیسہ کے قبضے میں

راوی:
دوسری طرف زوہیا جادوگرنی یونالیسہ کی غار میں قید تھی۔ وہ آگ کے اوپر بندھی ہوئی تھی۔

زوہیا:
"یا خدا! میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟"

(زوہیا کی نظر یونالیسہ پر پڑتی ہے۔)

زوہیا:
"تم کون ہو؟ تم نے مجھے یہاں کیوں قید کیا ہے؟"

یونالیسہ:
"میں تمہارا انجام ہوں۔"

زوہیا:
"کیا مطلب؟ تم میرے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہو؟"

یونالیسہ:
"وقت آنے پر تمہیں سب معلوم ہو جائے گا۔"

(یونالیسہ زوہیا کو ٹویا ٹویا کے حوالے کر دیتی ہے۔)

زوہیا:
"براہِ کرم مجھے چھوڑ دو۔ مجھے جانے دو۔"

ٹویا ٹویا:
"کوئی تمہیں بچانے نہیں آئے گا۔ جتنا چاہو چیخ لو۔"

زوہیا:
"چھوٹے سے بھوت! مجھے چھوڑ دو۔ میں تمہیں جو چاہو دے دوں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"ہاں، میں چھوٹا ضرور ہوں، لیکن کیا تم مجھے بلیک فاریسٹ کا بادشاہ بنا سکتی ہو؟"

زوہیا:
"میں تمہاری مدد نہیں کر سکتی، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر کسی کی ایک خواہش ہوتی ہے۔"


بچاؤ کا عظیم مشن

راوی:
جب یونالیسہ زوہیا کو قربان کر کے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا عمل شروع کرنے آتی ہے تو اچانک زوہیا کی گردن کا نشان روشن ہونے لگتا ہے۔

یونالیسہ:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نشان سے روشنی کیوں نکل رہی ہے؟"

راوی:
اسی وقت لیمن شاہ اور سوزاکی بلیک ویلی پہنچتے ہیں۔ راستے میں انہیں خطرناک گدھوں اور جادوگنیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

(اچانک غار میں سفید دھواں پھیل جاتا ہے۔)

یونالیسہ:
"یہ کیا ہے؟ یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے؟"

یونالیسہ:
"ٹویا ٹویا! جاؤ اور معلوم کرو کہ میری غار میں داخل ہونے کی جرأت کس نے کی ہے۔"

رانیہ (دھویں میں چھپ کر):
"یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے؟ ہمیں جلدی زوہیا کو بچانا ہوگا۔"

(لیمن شاہ زوہیا کو آزاد کر دیتا ہے۔ سب وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔)

راوی:
صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے۔ یونالیسہ اور اس کے ساتھی سورج کی روشنی برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے انہیں واپس جانا پڑتا ہے۔


محفوظ جگہ پر واپسی

راوی:
کچھ وقت بعد زوہیا ایک محفوظ گھر میں آنکھ کھولتی ہے۔

زوہیا:
"میں کہاں ہوں؟ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔"

زوہیا:
"مجھے اپنی امی کے پاس جانا ہے۔ یہ سب میری غلطی ہے۔ مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ میں تو مرنے والی تھی۔"

رانیہ:
"جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں، کوئی تمہیں چھو بھی نہیں سکتا، مارنا تو بہت دور کی بات ہے۔"

زوہیا:
"لیکن مجھے اغوا کر لیا گیا تھا اور تم وہاں کچھ نہیں کر سکیں۔"

رانیہ:
"ارے! یہ مت بھولو کہ میں ہی تمہیں وہاں سے نکالنے آئی تھی۔"

(زوہیا کی نظر سیاہ چیتے پر پڑتی ہے۔)

زوہیا:
"یہ چیتا... مجھے لگتا ہے میں اسے پہلے کہیں دیکھ چکی ہوں۔"

زوہیا:
"اس کی شکل میرے نشان جیسی ہے۔"

زوہیا (چیتے سے):
"تم ہی ہو نا؟ وہی جو میرے خوابوں میں آتے ہو؟"


سوزاکی اور رانیہ کی بات

راوی:
بعد میں سوزاکی رانیہ کے پاس آتا ہے۔

سوزاکی:
"ہم نے تمہیں گھر پر چھوڑا تھا۔ تم یہاں کیسے پہنچ گئیں؟"

سوزاکی:
"اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو..."

رانیہ (مسکرا کر):
"کیا تم میری فکر کر رہے تھے؟"

سوزاکی:
"نہیں... نہیں، میں بس... میرا مطلب تھا..."

رانیہ:
"میں نے تم دونوں کو منصوبے کے بارے میں بات کرتے سنا تھا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ لڑکیاں جنگ میں حصہ نہیں لے سکتیں؟"

(سوزاکی خاموشی سے وہاں سے چلا جاتا ہے۔)

رانیہ (دل میں):
"کیا واقعی اسے میری فکر ہے؟"


یونالیسہ کا عہد

راوی:
دوسری طرف بلیک ویلی میں یونالیسہ غصے سے بھری ہوئی تھی۔

یونالیسہ:
"کوئی بھی شخص جو میری وادی میں داخل ہوتا ہے، زندہ واپس نہیں جاتا۔"

یونالیسہ:
"انہوں نے میری طاقت مجھ سے چھین لی۔ میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"آپ صرف باتیں کرتی ہیں۔ میں نے اتنی محنت سے اسے تلاش کیا اور آپ نے اسے جانے دیا۔"

یونالیسہ:
"خاموش رہو!"

یونالیسہ:
"مجھے وہ لڑکی چاہیے! جوجو، انہیں تلاش کرو!"

یونالیسہ:
"میں قسم کھاتی ہوں، میں ان کا خون بہائے بغیر آرام نہیں کروں گی۔"

یونالیسہ:
"میں شہزادی اور اس چیتے کو زندہ نہیں چھوڑوں گی!"

راوی:
زوہیا، لیمن شاہ اور ان کے دوستوں کے لیے اصل جنگ ابھی شروع ہوئی تھی۔

جاری ہے...

The Princess and the Secret Beast: Ep #4

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: یونالیسہ کی سازش

راوی:
کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں پچھلی قسط ختم ہوئی تھی۔ سوزاکی مقابلے کے بعد راستے پر چل رہا تھا کہ اچانک رانیہ کا پاؤں پھسلا اور وہ سوزاکی سے ٹکرا گئی۔ سوزاکی نے فوراً اسے گرنے سے بچا لیا۔

رانیہ:
"ارے! تمہیں نظر نہیں آتا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟"

سوزاکی:
"کیا؟ سنو بھوتنی! تم مجھ سے ٹکرائی ہو، میں تم سے نہیں۔"

رانیہ (غصے سے):
"کیا کہا؟ تم نے مجھے بھوتنی کہا؟"

رانیہ:
"تم خود بھوت لگتے ہو! تمہارے ابو بھوت ہوں گے، تمہاری بہن بھوت ہوگی، بلکہ تمہارا پورا خاندان ہی بھوتوں کا ہوگا!"

سوزاکی:
"جو بھی کہو بھوتنی، اب راستہ چھوڑ دو۔"

رانیہ:
"کیا تمہیں بات کرنے کی تمیز بھی نہیں؟"

(اسی دوران زوہیا وہاں پہنچ جاتی ہے اور رانیہ کو غصے میں دیکھتی ہے۔)

زوہیا:
"رانیہ، کیا ہوا؟ تم اتنی غصے میں کیوں ہو؟"

رانیہ:
"زوہیا! کیا میں تمہیں بھوتنی نظر آتی ہوں؟ سچ سچ بتاؤ!"

زوہیا:
"نہیں! تمہیں بھلا کوئی بھوتنی کیسے کہہ سکتا ہے؟ تم تو بہت خوبصورت ہو۔"

رانیہ (سوزاکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے):
"اس اندھے کو دیکھو! اس کی آنکھوں کی جگہ شاید بٹن لگے ہوئے ہیں۔"

زوہیا:
"وہ تو کافی شریف لگ رہا ہے۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔"

رانیہ:
"شریف؟ مجھے تو بہت مغرور لگتا ہے۔ پتا نہیں اسے کس بات کا اتنا غرور ہے۔"


یونالیسہ کا منصوبہ

راوی:
دوسری طرف بلیک ویلی میں ٹویا ٹویا جادوگرنی یونالیسہ کے پاس پہنچا۔

ٹویا ٹویا:
"عظیم جادوگرنی! میں نے اس لڑکی کو تلاش کر لیا ہے۔"

یونالیسہ:
"بہت خوب ٹویا ٹویا! مجھے یقین نہیں تھا کہ تم یہ کام کر پاؤ گے۔"

ٹویا ٹویا:
"شکریہ، لیکن اب اسے یہاں لانا بھی میرا کام ہے؟"

یونالیسہ:
"یقیناً! اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔"

ٹویا ٹویا:
"لیکن وہ ابھی صرف انیس سال کی ہے، اور دو دن بعد بیس سال کی ہو جائے گی۔ کیا ہمیں واقعی اسے لانا چاہیے؟"

یونالیسہ (غصے سے):
"احمق! اگر وہ میرے کام کی نہیں تو پھر اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟"

یونالیسہ:
"کوئی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

یونالیسہ:
"کل جب چاندنی زمین کو چھوئے گی، میں اسے قربان کر دوں گی اور پوری دنیا پر حکومت کروں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی۔"

راوی:
یونالیسہ نے اپنے خطرناک سائے جوجو کو بھیجا، جو کسی بھی شکل میں بدل سکتا تھا، تاکہ وہ ٹویا ٹویا کے ساتھ مل کر زوہیا کو اغوا کر سکے۔


شہزادہ لیمن شاہ کا عزم

راوی:
جنگل کے قریب ایک چھوٹے سے گھر میں شہزادہ لیمن شاہ اور سوزاکی موجود تھے۔

لیمن شاہ:
"کیا تم نے اسے تلاش کر لیا؟"

سوزاکی:
"جی آقا، اس کا نام زوہیا ہے۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اولشیا آئی ہوئی ہے۔"

لیمن شاہ:
"زوہیا... کتنا خوبصورت نام ہے۔"

سوزاکی:
"وہ واقعی بہت اچھی لگتی ہے، لیکن آقا، مجھے ایک بات عجیب لگتی ہے۔"

لیمن شاہ:
"کیا؟"

سوزاکی:
"وہ بہت معصوم نظر آتی ہے۔ وہ ایک خطرناک جادوگرنی کا مقابلہ کیسے کر سکے گی؟"

لیمن شاہ:
"کیونکہ اس کے اندر ایک ایسی طاقت ہے جو صرف اسی کے پاس ہے۔"

لیمن شاہ:
"وہی واحد شخص ہے جو اس برائی کو ختم کر سکتی ہے۔"

سوزاکی:
"لیکن؟"

لیمن شاہ:
"لیکن وہی واحد لڑکی ہے جو یونالیسہ کو ہمیشہ کے لیے طاقتور بھی بنا سکتی ہے۔"

لیمن شاہ:
"ہمیں ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی ہوگی، جب تک وہ بیس سال کی نہ ہو جائے۔"


زوہیا کا اغوا

راوی:
زوہیا اور رانیہ گھر واپس جا رہی تھیں کہ اچانک رانیہ کو محسوس ہوا کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

رانیہ:
"زوہیا، میرا ہاتھ پکڑو! جلدی بھاگو!"

زوہیا:
"کیا ہوا رانیہ؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو؟"

رانیہ:
"مجھے لگ رہا ہے کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ ہمیں جلدی گھر پہنچنا ہوگا۔"

(دونوں جلدی سے اپنے کمرے میں پہنچتی ہیں۔ اچانک کمرے کی تمام روشنیاں بند ہو جاتی ہیں۔)

رانیہ:
"زوہیا؟"

رانیہ:
"زوہیا، تم کہاں ہو؟ جواب دو!"

(کچھ دیر بعد روشنیاں واپس آتی ہیں۔)

رانیہ:
"زوہیا؟"

راوی:
لیکن زوہیا وہاں موجود نہیں تھی۔ رانیہ نے دیکھا کہ جنگل کی طرف کوئی سایہ بڑھ رہا ہے۔

رانیہ:
"نہیں! یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں چمونی بابا نے خبردار کیا تھا۔"


جنگل میں تلاش

راوی:
رانیہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور اکیلی زوہیا کو تلاش کرنے جنگل کی طرف نکل گئی۔ راستے میں اسے ایک بڑی ندی بھی پار کرنی پڑی۔

رانیہ:
"زوہیا! تم کہاں ہو؟"

رانیہ:
"زوہیا! جواب دو!"

(اچانک جنگل میں ایک خوفناک جانور کی آواز آتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ کیا تھا؟"

رانیہ:
"نہیں! یہ جانور مجھے کھا جائے گا!"

رانیہ:
"بچاؤ! کوئی میری مدد کرے!"


زوہیا کی تلاش

راوی:
دوسری طرف زوہیا کی دادی انالیسہ کمرے میں آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ کمرہ بکھرا ہوا ہے اور دونوں لڑکیاں غائب ہیں۔

انالیسہ:
"یا خدا! یہ کیا ہو گیا؟ زوہیا کہاں ہے؟"

انالیسہ:
"کسی کو فوراً مدد کے لیے بلاؤ!"

راوی:
پولیس انسپکٹر کو اطلاع دی گئی، جس نے پورے شہر کی ناکہ بندی کا حکم دے دیا۔


رانیہ اور سوزاکی کی ملاقات

راوی:
جنگل میں لیمن شاہ اور سوزاکی موجود تھے کہ اچانک انہیں ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی۔

لیمن شاہ:
"یہ آواز کسی لڑکی کی لگ رہی ہے۔"

سوزاکی (حیرت سے):
"میں اس آواز کو جانتا ہوں!"

سوزاکی:
"یا خدا! امید ہے وہ ٹھیک ہوگی۔"

(سوزاکی تیزی سے آواز کی طرف جاتا ہے۔ رانیہ بھاگتے ہوئے آتی ہے اور سوزاکی سے ٹکرا جاتی ہے، پھر بے ہوش ہو کر اس کی بانہوں میں گر جاتی ہے۔)

سوزاکی:
"رانیہ!"

سوزاکی:
"ارے بھوتنی! آنکھیں کھولو۔ اٹھو!"

لیمن شاہ:
"یہ لڑکی کون ہے؟ کیا تم اسے جانتے ہو؟"

سوزاکی:
"یہ رانیہ ہے، زوہیا کی سب سے اچھی دوست۔"

سوزاکی:
"اگر یہ یہاں ہے تو..."

لیمن شاہ:
"نہیں! بالکل وہی ہوا جس کا مجھے خوف تھا۔"


یونالیسہ کا قلعہ

راوی:
دوسری طرف زوہیا بے ہوش حالت میں ہوا میں معلق تھی اور اس کے سامنے یونالیسہ کھڑی تھی۔

یونالیسہ:
"آخرکار! جو چیز میں چاہتی تھی، وہ مجھے مل گئی۔"

یونالیسہ:
"اب کوئی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

ٹویا ٹویا:
"بس یاد رکھنا، اگر یہ جاگ گئی تو یہ تمہاری مکمل تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔"

یونالیسہ:
"خاموش رہو! اب فتح میری ہوگی۔"

راوی:
لیکن زوہیا کے اندر چھپی طاقت، لیمن شاہ کی امید اور رانیہ کی دوستی ابھی باقی تھی۔ اصل مقابلہ اب شروع ہونے والا تھا۔

جاری ہے...

The Princess and the Secret Beast: Ep #3

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: پراسرار نشان

راوی:
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ زوہیا اور رانیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹرین کے ذریعے زوہیا کے خوبصورت گاؤں "ہنس" جائیں گی۔ سفر کے دوران دونوں بہت خوش تھیں اور چھٹیوں کے منصوبے بنا رہی تھیں۔

رانیہ:
"زوہیا، تمہارا گاؤں بہت خوبصورت بتایا جاتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں تمہارے گھر جا رہی ہوں۔"

زوہیا:
"ہاں رانیہ، میرا گاؤں واقعی بہت خوبصورت ہے۔ وہاں کی ہوا، درخت اور قدرتی مناظر دل کو سکون دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے تمہیں بہت پسند آئے گا۔"

رانیہ:
"مجھے بھی بہت انتظار ہے کہ میں تمہارے خاندان سے ملوں اور تمہاری دنیا کو قریب سے دیکھوں۔"

راوی:
کچھ وقت بعد ٹرین گاؤں ہنس پہنچی۔ زوہیا اور رانیہ گھر پہنچیں۔

زوہیا:
"امی! ابو! میں آ گئی ہوں!"

زوہیا کی امی:
"اوہ زوہیا! میری بیٹی! تم آ گئی۔"

زوہیا کی امی:
"ارے بیٹا، تم تو بہت کمزور ہو گئی ہو۔ کیا وہاں تم کھانا ٹھیک سے نہیں کھاتیں؟"

زوہیا:
"اوہ امی! آپ بھی شروع ہو گئیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔"

زوہیا کے ابو:
"نہیں بیٹی، تمہاری امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ تم پہلے سے زیادہ پتلی لگ رہی ہو۔"

زوہیا:
"اوہ ابو، آپ بھی امی کی باتوں میں آ گئے۔"

زوہیا کے ابو:
"بیٹی، ہم تمہاری فکر کرتے ہیں۔ تم ہمارے لیے بہت خاص ہو۔"

زوہیا:
"مجھے معلوم ہے ابو۔"

زوہیا کے ابو (رانیہ سے):
"رانیہ بیٹا، تم کیسی ہو؟ گھر میں سب کیسے ہیں؟"

رانیہ:
"میں بالکل ٹھیک ہوں انکل۔ گھر میں سب خیریت ہے۔ اصل میں میں نے سوچا ہے کہ پوری گرمیوں کی چھٹیاں آپ سب کے ساتھ گزاروں گی۔"

زوہیا کی امی:
"یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔ تم دونوں مل کر خوب انجوائے کرنا۔"

زوہیا کی امی:
"اب جاؤ، تازہ دم ہو جاؤ۔ میں تم دونوں کے لیے رات کا کھانا تیار کرتی ہوں۔"

زوہیا:
"جی امی، جیسا آپ کہیں۔"


راوی:
دوسری طرف، ایک دور دراز اندھیری غار میں ایک سیاہ چیتا رہتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ کوئی عام چیتا نہیں تھا۔ وہ شہزادہ لیمن شاہ تھا، جسے کئی سال پہلے ایک جادوگرنی نے بددعا دے کر چیتے کی شکل میں بدل دیا تھا۔

راوی:
وہ صرف رات کے وقت دوبارہ اپنی اصل انسانی شکل میں آ سکتا تھا۔

لیمن شاہ (اداس حالت میں):
"یا خدا! میں نے آدھی دنیا تلاش کر لی، لیکن ابھی تک مجھے وہ اجنبی نہیں ملی۔"

لیمن شاہ:
"مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا، لیکن میری آزادی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔"

لیمن شاہ:
"کیا میں اور میری سلطنت ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے؟ کیا ہم کبھی اپنی اصل شکل میں واپس نہیں آ سکیں گے؟"

لیمن شاہ:
"میری یہ تکلیف کب ختم ہوگی؟ اور وہ راز کب سامنے آئے گا؟"


راوی:
رات کو زوہیا اور رانیہ کھانا کھانے کے بعد سو گئیں۔ آدھی رات کے وقت رانیہ کو پیاس لگی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔

رانیہ:
"آہ... مجھے بہت پیاس لگی ہے۔"

(اچانک رانیہ کی نظر ایک عجیب روشنی پر پڑتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے؟"

راوی:
رانیہ نے دیکھا کہ زوہیا کے بستر سے ایک عجیب سی روشنی نکل رہی تھی۔ دیوار پر ایک پراسرار سایہ بھی نظر آ رہا تھا۔

رانیہ (خوفزدہ):
"یہ کیا ہے؟ زوہیا کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟"


راوی:
اگلی صبح سب ناشتہ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

زوہیا کی امی:
"بچو! ناشتہ تیار ہے۔ جلدی تیار ہو کر نیچے آ جاؤ۔"

زوہیا کے ابو:
"بیٹا، کیا تم لوگ اپنی دادی کے گھر جانا پسند کرو گی؟"

زوہیا:
"کیا ہوا ابو؟ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ سب ٹھیک تو ہے؟"

زوہیا کے ابو:
"اصل میں مجھے کام سے چھٹی نہیں مل سکے گی، اس لیے میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکوں گا۔"

رانیہ:
"فکر نہ کریں انکل۔ میں زوہیا کے ساتھ ہوں۔ ہم دونوں جائیں گی اور بہت مزے کریں گی۔"

زوہیا:
"جی ابو، آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم اپنا خیال رکھیں گی۔"

زوہیا کے ابو:
"ٹھیک ہے پھر، کل شام جانے کے لیے تیار رہنا۔"


راوی:
بعد میں گھر کے راستے میں رانیہ نے زوہیا سے ایک اہم بات پوچھی۔

رانیہ:
"زوہیا، تمہاری گردن پر یہ نشان کیسا ہے؟"

زوہیا:
"یہ؟ یہ نشان تو میرے پیدا ہونے کے وقت سے ہے۔"

رانیہ:
"کیا تمہیں یہ عجیب نہیں لگتا؟"

زوہیا:
"عجیب؟ تمہارا مطلب کیا ہے؟ کیا تم نے کچھ دیکھا ہے رانیہ؟"

رانیہ:
"ہاں زوہیا، میں نے کل رات اسے چمکتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پراسرار روشنی مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔"

زوہیا:
"کیا؟ تم نے واقعی اسے چمکتے دیکھا؟"

(اتنے میں زوہیا کی امی آ جاتی ہیں۔)

زوہیا کی امی:
"بچو، سونے سے پہلے دودھ پی لینا۔ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔"

زوہیا:
"جی امی، ہم ضرور پئیں گی۔"

زوہیا (رانیہ سے آہستہ):
"رانیہ، پلیز میرے والدین کو اس بارے میں کچھ مت بتانا۔"

رانیہ:
"کیوں؟"

زوہیا:
"وہ میرے بارے میں بہت فکر کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں پانچ سال کی تھی اور بیمار ہوئی تھی تو وہ بہت پریشان ہو گئے تھے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ اس راز کی وجہ سے پریشان ہوں۔"

رانیہ:
"ٹھیک ہے، میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔ لیکن ہمیں اس راز کا پتہ لگانا ہوگا۔"

رانیہ:
"میں نے سنا ہے کہ اولشیا میں ایک عقلمند بزرگ ہیں جنہیں چمونی بابا کہتے ہیں۔ شاید وہ اس بارے میں ہماری مدد کر سکیں۔"


راوی:
دوسری طرف، بلیک ویلی میں ایک خطرناک جادوگرنی یونالیسہ موجود تھی۔ وہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے لیے اسے اس لڑکی کو تلاش کرنا تھا جس کی گردن پر چیتے کا نشان تھا، اور یہ کام اسے زوہیا کی بیس سال کی عمر سے پہلے کرنا تھا۔

یونالیسہ:
"یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ابھی تک اس لڑکی کو تلاش نہیں کر سکی؟"

یونالیسہ:
"کوئی بھی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

ٹویا ٹویا:
"مجھے نہیں لگتا کہ آپ اسے اتنی آسانی سے تلاش کر پائیں گی۔"

یونالیسہ:
"کیا تم نے کچھ کہا؟"

ٹویا ٹویا:
"نہیں نہیں، میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ اگر آپ کوشش نہیں کریں گی تو اسے کیسے تلاش کریں گی؟"

یونالیسہ (ہنستے ہوئے):
"بہت خوب! اب تم ہی میرے لیے کوشش کرو گے۔"

یونالیسہ:
"جاؤ! تمہارے پاس تین دن ہیں۔ اس لڑکی کو تلاش کر کے میرے پاس لاؤ، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی! میں آپ کا حکم پورا کروں گا۔"

ٹویا ٹویا (دل میں):
"یہ تو بہت اچھا ہے۔ خیال میں دیتا ہوں اور کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب میں اس لڑکی کو تلاش کر لوں گا تو بلیک فاریسٹ کا بادشاہ بن جاؤں گا۔"

یونالیسہ:
"کیا کہا؟ خوابوں کے بادشاہ؟"

(یونالیسہ اسے تھپڑ مار دیتی ہے۔)

یونالیسہ:
"یاد رکھو، اگر کام مکمل نہ ہوا تو میں تمہیں قربان کر دوں گی۔ یونالیسہ کسی پر رحم نہیں کرتی۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی! میں اسے ضرور تلاش کر کے لاؤں گا۔"


راوی:
رات کو زوہیا ایک خوفناک خواب سے جاگ اٹھی۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی اور اردگرد دیکھا۔

زوہیا:
"رانیہ؟ رانیہ کہاں گئی؟"

زوہیا:
"رانیہ! اگر تم نے کسی کو اس راز کے بارے میں بتا دیا تو بہت بڑی مشکل ہو جائے گی۔"

زوہیا:
"میں اپنے خاندان کو اس سب سے دور رکھنا چاہتی ہوں۔"

راوی:
لیکن زوہیا کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے پراسرار نشان کا راز اب خطرے میں تھا، اور ایک خطرناک جادوگرنی اس کی تلاش میں نکل چکی تھی۔

جاری ہے...