Sunday, July 12, 2026

Saving Lala: The Red Fox Series Ep #2

 

سرخ لومڑی کا راز: احمد اور لالا کی دوبارہ ملاقات

راوی:
ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ احمد کی زندگی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ سرخ لومڑی سے ملاقات کے بعد اس کے اندر بہت تبدیلی آ گئی تھی۔ اب وہ دوسروں کے احساسات کو سمجھنے لگا تھا اور پہلے کی طرح مغرور نہیں رہا تھا۔

ایک دن احمد کلاس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کچھ طالب علم آپس میں باتیں کرنے لگے۔

طالب علم 1:
"کیا تم لوگوں نے سنا؟ کل رات جنگل میں کچھ عجیب ہوا ہے۔"

طالب علم 2:
"ہاں، وہی سرخ لومڑی دوبارہ دیکھی گئی ہے۔"

طالب علم 1:
"لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے اس پر گولیاں بھی چلائیں۔"

طالب علم 2:
"کہتے ہیں شاید وہ اب زندہ بھی نہ ہو۔"

(یہ سن کر احمد حیران رہ جاتا ہے۔)

احمد (دل میں):
"نہیں... ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ زندہ ہے۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا۔"

کلاس ختم ہوتے ہی احمد فوراً جنگل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔

راوی:
احمد جنگل میں پہنچ کر ہر طرف تلاش کرنے لگا۔ اچانک اسے زمین پر خون کے نشان نظر آئے۔

احمد:
"یہ خون... نہیں، لالا! تم کہاں ہو؟"

وہ پریشانی میں جنگل کے اندر مزید آگے بڑھتا گیا۔

کافی تلاش کے بعد اسے سرخ لومڑی ایک درخت کے پاس زخمی حالت میں ملی۔

احمد:
"تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ میں تمہیں بچا لوں گا۔"

احمد فوراً اس کے زخموں پر پٹی باندھتا ہے۔

اسی وقت کچھ لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

آدمی 1:
"وہ رہی لومڑی! اسے پکڑ لو!"

آدمی 2:
"حکومت کا انعام ہمارا ہوگا۔"

احمد ان لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

احمد:
"تم لوگ اسے کہیں نہیں لے جا سکتے۔"

آدمی 1:
"تم کون ہوتے ہو اسے بچانے والے؟ ہٹو ہمارے راستے سے۔"

احمد:
"یہ کوئی چیز نہیں، ایک زندہ مخلوق ہے۔"

(احمد ان کا مقابلہ کرتا ہے اور لومڑی کو لے کر وہاں سے نکل جاتا ہے۔)


لالا کی آنکھ کھلنا

راوی:
دو دن گزر گئے۔ سرخ لومڑی ایک کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ اچانک اس نے آنکھیں کھولیں۔

وہ اب اپنی انسانی شکل میں واپس آ چکی تھی۔

لالا (دل میں):
"آہ... میں کہاں ہوں؟"

لالا:
"میرے ساتھ کیا ہوا؟"

(وہ اٹھ کر کمرے کو دیکھتی ہے۔)

اس کی نظر احمد پر پڑتی ہے جو قریب ہی سو رہا تھا۔

لالا آہستہ آہستہ احمد کے قریب جاتی ہے، لیکن اچانک احمد کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

احمد:
"تم ٹھیک ہو؟"

(لالا گھبرا جاتی ہے۔)

لالا:
"ہاں... میں ٹھیک ہوں۔ لیکن میرے ساتھ کیا ہوا؟"

احمد:
"کیا تم مذاق کر رہی ہو؟"

احمد:
"اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو آج تم زندہ نہ ہوتیں۔"

لالا:
"اوہ... ہاں، اب مجھے یاد آ رہا ہے۔"

احمد:
"تم دو دن سے بے ہوش تھیں۔ آخرکار تمہیں ہوش آ گیا۔"

لالا (حیرت سے):
"کیا؟ میں دو دن تک بے ہوش تھی؟"

احمد:
"ہاں، اور کیا؟"

لالا:
"مجھے یقین نہیں آ رہا۔"


احمد کا خاندان

راوی:
اسی وقت احمد کے والدین کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔

لالا انہیں دیکھ کر گھبرا جاتی ہے۔

لالا:
"یہ کون ہیں؟"

لالا:
"یہ لوگ کون ہیں؟"

احمد:
"گھبراؤ نہیں۔ یہ میرے والدین ہیں۔"

احمد:
"امی، ابو، یہ میری دوست ہے۔"

احمد کی والدہ:
"دوست؟"

(وہ حیرت سے احمد کو دیکھتی ہیں۔)

احمد کی والدہ:
"ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ احمد کسی کے لیے اتنا پریشان ہوا ہو۔"

احمد کے والد:
"بیٹا، تم نے واقعی کسی کی جان بچائی ہے۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔"

لالا آہستہ آہستہ احمد کے خاندان کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔

وہ گھر میں خوشی سے ادھر ادھر گھومتی ہے اور سب سے باتیں کرنے لگتی ہے۔

احمد کی والدہ (مسکرا کر):
"یہ لڑکی بہت پیاری ہے۔"

احمد:
"ہاں، یہ واقعی بہت خاص ہے۔"


لالا کا نیا نام

راوی:
کچھ دن بعد احمد کو کالج جانا تھا۔

احمد:
"میں کالج جا رہا ہوں، لیکن تم گھر میں رہنا۔ باہر مت جانا۔"

لالا:
"کیوں؟"

احمد:
"کیونکہ ابھی تم محفوظ نہیں ہو۔ اگر کسی کو تمہارے بارے میں پتا چل گیا تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔"

لالا:
"ٹھیک ہے، میں تمہاری بات مانوں گی۔"

احمد گھر سے نکل جاتا ہے۔

راستے میں وہ سوچنے لگتا ہے۔

احمد (دل میں):
"اس کا کوئی نام ہونا چاہیے۔"

احمد:
"لالا... یہ نام اس پر اچھا لگے گا۔"


حیران کن ملاقات

راوی:
احمد کالج پہنچا اور کلاس میں بیٹھ گیا۔

کچھ دیر بعد استاد اندر آئے۔

استاد:
"طلبہ، آج ہماری کلاس میں ایک نئی طالبہ شامل ہو رہی ہے۔"

استاد:
"اس کا نام لالا ہے۔"

(احمد حیرت سے دروازے کی طرف دیکھتا ہے۔)

وہی لڑکی اندر آتی ہے جسے وہ گھر پر چھوڑ کر آیا تھا۔

احمد اپنی جگہ سے کھڑا ہو جاتا ہے۔

احمد (حیرت سے):
"لالا؟"

(لالا مسکرا کر احمد کی طرف دیکھتی ہے۔)

لالا:
"ہیلو احمد۔"

احمد (دل میں):
"یہ یہاں کیسے آ گئی؟ اور سب سے عجیب بات... اس کا نام بھی وہی ہے جو میں نے سوچا تھا۔"

راوی:
احمد کو اندازہ ہو گیا کہ لالا صرف ایک عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کے ماضی، اس کی طاقت اور اس کے راز کے پیچھے ابھی بہت کچھ چھپا ہوا تھا۔

جاری ہے...