Sunday, July 12, 2026

The Princess and the Secret Beast: Ep #4

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: یونالیسہ کی سازش

راوی:
کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں پچھلی قسط ختم ہوئی تھی۔ سوزاکی مقابلے کے بعد راستے پر چل رہا تھا کہ اچانک رانیہ کا پاؤں پھسلا اور وہ سوزاکی سے ٹکرا گئی۔ سوزاکی نے فوراً اسے گرنے سے بچا لیا۔

رانیہ:
"ارے! تمہیں نظر نہیں آتا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟"

سوزاکی:
"کیا؟ سنو بھوتنی! تم مجھ سے ٹکرائی ہو، میں تم سے نہیں۔"

رانیہ (غصے سے):
"کیا کہا؟ تم نے مجھے بھوتنی کہا؟"

رانیہ:
"تم خود بھوت لگتے ہو! تمہارے ابو بھوت ہوں گے، تمہاری بہن بھوت ہوگی، بلکہ تمہارا پورا خاندان ہی بھوتوں کا ہوگا!"

سوزاکی:
"جو بھی کہو بھوتنی، اب راستہ چھوڑ دو۔"

رانیہ:
"کیا تمہیں بات کرنے کی تمیز بھی نہیں؟"

(اسی دوران زوہیا وہاں پہنچ جاتی ہے اور رانیہ کو غصے میں دیکھتی ہے۔)

زوہیا:
"رانیہ، کیا ہوا؟ تم اتنی غصے میں کیوں ہو؟"

رانیہ:
"زوہیا! کیا میں تمہیں بھوتنی نظر آتی ہوں؟ سچ سچ بتاؤ!"

زوہیا:
"نہیں! تمہیں بھلا کوئی بھوتنی کیسے کہہ سکتا ہے؟ تم تو بہت خوبصورت ہو۔"

رانیہ (سوزاکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے):
"اس اندھے کو دیکھو! اس کی آنکھوں کی جگہ شاید بٹن لگے ہوئے ہیں۔"

زوہیا:
"وہ تو کافی شریف لگ رہا ہے۔ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔"

رانیہ:
"شریف؟ مجھے تو بہت مغرور لگتا ہے۔ پتا نہیں اسے کس بات کا اتنا غرور ہے۔"


یونالیسہ کا منصوبہ

راوی:
دوسری طرف بلیک ویلی میں ٹویا ٹویا جادوگرنی یونالیسہ کے پاس پہنچا۔

ٹویا ٹویا:
"عظیم جادوگرنی! میں نے اس لڑکی کو تلاش کر لیا ہے۔"

یونالیسہ:
"بہت خوب ٹویا ٹویا! مجھے یقین نہیں تھا کہ تم یہ کام کر پاؤ گے۔"

ٹویا ٹویا:
"شکریہ، لیکن اب اسے یہاں لانا بھی میرا کام ہے؟"

یونالیسہ:
"یقیناً! اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔"

ٹویا ٹویا:
"لیکن وہ ابھی صرف انیس سال کی ہے، اور دو دن بعد بیس سال کی ہو جائے گی۔ کیا ہمیں واقعی اسے لانا چاہیے؟"

یونالیسہ (غصے سے):
"احمق! اگر وہ میرے کام کی نہیں تو پھر اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟"

یونالیسہ:
"کوئی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

یونالیسہ:
"کل جب چاندنی زمین کو چھوئے گی، میں اسے قربان کر دوں گی اور پوری دنیا پر حکومت کروں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی۔"

راوی:
یونالیسہ نے اپنے خطرناک سائے جوجو کو بھیجا، جو کسی بھی شکل میں بدل سکتا تھا، تاکہ وہ ٹویا ٹویا کے ساتھ مل کر زوہیا کو اغوا کر سکے۔


شہزادہ لیمن شاہ کا عزم

راوی:
جنگل کے قریب ایک چھوٹے سے گھر میں شہزادہ لیمن شاہ اور سوزاکی موجود تھے۔

لیمن شاہ:
"کیا تم نے اسے تلاش کر لیا؟"

سوزاکی:
"جی آقا، اس کا نام زوہیا ہے۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اولشیا آئی ہوئی ہے۔"

لیمن شاہ:
"زوہیا... کتنا خوبصورت نام ہے۔"

سوزاکی:
"وہ واقعی بہت اچھی لگتی ہے، لیکن آقا، مجھے ایک بات عجیب لگتی ہے۔"

لیمن شاہ:
"کیا؟"

سوزاکی:
"وہ بہت معصوم نظر آتی ہے۔ وہ ایک خطرناک جادوگرنی کا مقابلہ کیسے کر سکے گی؟"

لیمن شاہ:
"کیونکہ اس کے اندر ایک ایسی طاقت ہے جو صرف اسی کے پاس ہے۔"

لیمن شاہ:
"وہی واحد شخص ہے جو اس برائی کو ختم کر سکتی ہے۔"

سوزاکی:
"لیکن؟"

لیمن شاہ:
"لیکن وہی واحد لڑکی ہے جو یونالیسہ کو ہمیشہ کے لیے طاقتور بھی بنا سکتی ہے۔"

لیمن شاہ:
"ہمیں ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی ہوگی، جب تک وہ بیس سال کی نہ ہو جائے۔"


زوہیا کا اغوا

راوی:
زوہیا اور رانیہ گھر واپس جا رہی تھیں کہ اچانک رانیہ کو محسوس ہوا کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

رانیہ:
"زوہیا، میرا ہاتھ پکڑو! جلدی بھاگو!"

زوہیا:
"کیا ہوا رانیہ؟ تم اتنی پریشان کیوں ہو؟"

رانیہ:
"مجھے لگ رہا ہے کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ ہمیں جلدی گھر پہنچنا ہوگا۔"

(دونوں جلدی سے اپنے کمرے میں پہنچتی ہیں۔ اچانک کمرے کی تمام روشنیاں بند ہو جاتی ہیں۔)

رانیہ:
"زوہیا؟"

رانیہ:
"زوہیا، تم کہاں ہو؟ جواب دو!"

(کچھ دیر بعد روشنیاں واپس آتی ہیں۔)

رانیہ:
"زوہیا؟"

راوی:
لیکن زوہیا وہاں موجود نہیں تھی۔ رانیہ نے دیکھا کہ جنگل کی طرف کوئی سایہ بڑھ رہا ہے۔

رانیہ:
"نہیں! یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں چمونی بابا نے خبردار کیا تھا۔"


جنگل میں تلاش

راوی:
رانیہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور اکیلی زوہیا کو تلاش کرنے جنگل کی طرف نکل گئی۔ راستے میں اسے ایک بڑی ندی بھی پار کرنی پڑی۔

رانیہ:
"زوہیا! تم کہاں ہو؟"

رانیہ:
"زوہیا! جواب دو!"

(اچانک جنگل میں ایک خوفناک جانور کی آواز آتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ کیا تھا؟"

رانیہ:
"نہیں! یہ جانور مجھے کھا جائے گا!"

رانیہ:
"بچاؤ! کوئی میری مدد کرے!"


زوہیا کی تلاش

راوی:
دوسری طرف زوہیا کی دادی انالیسہ کمرے میں آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ کمرہ بکھرا ہوا ہے اور دونوں لڑکیاں غائب ہیں۔

انالیسہ:
"یا خدا! یہ کیا ہو گیا؟ زوہیا کہاں ہے؟"

انالیسہ:
"کسی کو فوراً مدد کے لیے بلاؤ!"

راوی:
پولیس انسپکٹر کو اطلاع دی گئی، جس نے پورے شہر کی ناکہ بندی کا حکم دے دیا۔


رانیہ اور سوزاکی کی ملاقات

راوی:
جنگل میں لیمن شاہ اور سوزاکی موجود تھے کہ اچانک انہیں ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی۔

لیمن شاہ:
"یہ آواز کسی لڑکی کی لگ رہی ہے۔"

سوزاکی (حیرت سے):
"میں اس آواز کو جانتا ہوں!"

سوزاکی:
"یا خدا! امید ہے وہ ٹھیک ہوگی۔"

(سوزاکی تیزی سے آواز کی طرف جاتا ہے۔ رانیہ بھاگتے ہوئے آتی ہے اور سوزاکی سے ٹکرا جاتی ہے، پھر بے ہوش ہو کر اس کی بانہوں میں گر جاتی ہے۔)

سوزاکی:
"رانیہ!"

سوزاکی:
"ارے بھوتنی! آنکھیں کھولو۔ اٹھو!"

لیمن شاہ:
"یہ لڑکی کون ہے؟ کیا تم اسے جانتے ہو؟"

سوزاکی:
"یہ رانیہ ہے، زوہیا کی سب سے اچھی دوست۔"

سوزاکی:
"اگر یہ یہاں ہے تو..."

لیمن شاہ:
"نہیں! بالکل وہی ہوا جس کا مجھے خوف تھا۔"


یونالیسہ کا قلعہ

راوی:
دوسری طرف زوہیا بے ہوش حالت میں ہوا میں معلق تھی اور اس کے سامنے یونالیسہ کھڑی تھی۔

یونالیسہ:
"آخرکار! جو چیز میں چاہتی تھی، وہ مجھے مل گئی۔"

یونالیسہ:
"اب کوئی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

ٹویا ٹویا:
"بس یاد رکھنا، اگر یہ جاگ گئی تو یہ تمہاری مکمل تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔"

یونالیسہ:
"خاموش رہو! اب فتح میری ہوگی۔"

راوی:
لیکن زوہیا کے اندر چھپی طاقت، لیمن شاہ کی امید اور رانیہ کی دوستی ابھی باقی تھی۔ اصل مقابلہ اب شروع ہونے والا تھا۔

جاری ہے...