Sunday, July 12, 2026

The Princess and the Secret Beast: Ep #2

زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: پراسرار نشان

راوی:
گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ زوہیا اور رانیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹرین کے ذریعے زوہیا کے خوبصورت گاؤں "ہنس" جائیں گی۔ سفر کے دوران دونوں بہت خوش تھیں اور چھٹیوں کے منصوبے بنا رہی تھیں۔

رانیہ:
"زوہیا، تمہارا گاؤں بہت خوبصورت بتایا جاتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں تمہارے گھر جا رہی ہوں۔"

زوہیا:
"ہاں رانیہ، میرا گاؤں واقعی بہت خوبصورت ہے۔ وہاں کی ہوا، درخت اور قدرتی مناظر دل کو سکون دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے تمہیں بہت پسند آئے گا۔"

رانیہ:
"مجھے بھی بہت انتظار ہے کہ میں تمہارے خاندان سے ملوں اور تمہاری دنیا کو قریب سے دیکھوں۔"

راوی:
کچھ وقت بعد ٹرین گاؤں ہنس پہنچی۔ زوہیا اور رانیہ گھر پہنچیں۔

زوہیا:
"امی! ابو! میں آ گئی ہوں!"

زوہیا کی امی:
"اوہ زوہیا! میری بیٹی! تم آ گئی۔"

زوہیا کی امی:
"ارے بیٹا، تم تو بہت کمزور ہو گئی ہو۔ کیا وہاں تم کھانا ٹھیک سے نہیں کھاتیں؟"

زوہیا:
"اوہ امی! آپ بھی شروع ہو گئیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔"

زوہیا کے ابو:
"نہیں بیٹی، تمہاری امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ تم پہلے سے زیادہ پتلی لگ رہی ہو۔"

زوہیا:
"اوہ ابو، آپ بھی امی کی باتوں میں آ گئے۔"

زوہیا کے ابو:
"بیٹی، ہم تمہاری فکر کرتے ہیں۔ تم ہمارے لیے بہت خاص ہو۔"

زوہیا:
"مجھے معلوم ہے ابو۔"

زوہیا کے ابو (رانیہ سے):
"رانیہ بیٹا، تم کیسی ہو؟ گھر میں سب کیسے ہیں؟"

رانیہ:
"میں بالکل ٹھیک ہوں انکل۔ گھر میں سب خیریت ہے۔ اصل میں میں نے سوچا ہے کہ پوری گرمیوں کی چھٹیاں آپ سب کے ساتھ گزاروں گی۔"

زوہیا کی امی:
"یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔ تم دونوں مل کر خوب انجوائے کرنا۔"

زوہیا کی امی:
"اب جاؤ، تازہ دم ہو جاؤ۔ میں تم دونوں کے لیے رات کا کھانا تیار کرتی ہوں۔"

زوہیا:
"جی امی، جیسا آپ کہیں۔"


راوی:
دوسری طرف، ایک دور دراز اندھیری غار میں ایک سیاہ چیتا رہتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ کوئی عام چیتا نہیں تھا۔ وہ شہزادہ لیمن شاہ تھا، جسے کئی سال پہلے ایک جادوگرنی نے بددعا دے کر چیتے کی شکل میں بدل دیا تھا۔

راوی:
وہ صرف رات کے وقت دوبارہ اپنی اصل انسانی شکل میں آ سکتا تھا۔

لیمن شاہ (اداس حالت میں):
"یا خدا! میں نے آدھی دنیا تلاش کر لی، لیکن ابھی تک مجھے وہ اجنبی نہیں ملی۔"

لیمن شاہ:
"مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا، لیکن میری آزادی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔"

لیمن شاہ:
"کیا میں اور میری سلطنت ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے؟ کیا ہم کبھی اپنی اصل شکل میں واپس نہیں آ سکیں گے؟"

لیمن شاہ:
"میری یہ تکلیف کب ختم ہوگی؟ اور وہ راز کب سامنے آئے گا؟"


راوی:
رات کو زوہیا اور رانیہ کھانا کھانے کے بعد سو گئیں۔ آدھی رات کے وقت رانیہ کو پیاس لگی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔

رانیہ:
"آہ... مجھے بہت پیاس لگی ہے۔"

(اچانک رانیہ کی نظر ایک عجیب روشنی پر پڑتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے؟"

راوی:
رانیہ نے دیکھا کہ زوہیا کے بستر سے ایک عجیب سی روشنی نکل رہی تھی۔ دیوار پر ایک پراسرار سایہ بھی نظر آ رہا تھا۔

رانیہ (خوفزدہ):
"یہ کیا ہے؟ زوہیا کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟"


راوی:
اگلی صبح سب ناشتہ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

زوہیا کی امی:
"بچو! ناشتہ تیار ہے۔ جلدی تیار ہو کر نیچے آ جاؤ۔"

زوہیا کے ابو:
"بیٹا، کیا تم لوگ اپنی دادی کے گھر جانا پسند کرو گی؟"

زوہیا:
"کیا ہوا ابو؟ آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ سب ٹھیک تو ہے؟"

زوہیا کے ابو:
"اصل میں مجھے کام سے چھٹی نہیں مل سکے گی، اس لیے میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکوں گا۔"

رانیہ:
"فکر نہ کریں انکل۔ میں زوہیا کے ساتھ ہوں۔ ہم دونوں جائیں گی اور بہت مزے کریں گی۔"

زوہیا:
"جی ابو، آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم اپنا خیال رکھیں گی۔"

زوہیا کے ابو:
"ٹھیک ہے پھر، کل شام جانے کے لیے تیار رہنا۔"


راوی:
بعد میں گھر کے راستے میں رانیہ نے زوہیا سے ایک اہم بات پوچھی۔

رانیہ:
"زوہیا، تمہاری گردن پر یہ نشان کیسا ہے؟"

زوہیا:
"یہ؟ یہ نشان تو میرے پیدا ہونے کے وقت سے ہے۔"

رانیہ:
"کیا تمہیں یہ عجیب نہیں لگتا؟"

زوہیا:
"عجیب؟ تمہارا مطلب کیا ہے؟ کیا تم نے کچھ دیکھا ہے رانیہ؟"

رانیہ:
"ہاں زوہیا، میں نے کل رات اسے چمکتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پراسرار روشنی مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔"

زوہیا:
"کیا؟ تم نے واقعی اسے چمکتے دیکھا؟"

(اتنے میں زوہیا کی امی آ جاتی ہیں۔)

زوہیا کی امی:
"بچو، سونے سے پہلے دودھ پی لینا۔ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔"

زوہیا:
"جی امی، ہم ضرور پئیں گی۔"

زوہیا (رانیہ سے آہستہ):
"رانیہ، پلیز میرے والدین کو اس بارے میں کچھ مت بتانا۔"

رانیہ:
"کیوں؟"

زوہیا:
"وہ میرے بارے میں بہت فکر کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں پانچ سال کی تھی اور بیمار ہوئی تھی تو وہ بہت پریشان ہو گئے تھے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ اس راز کی وجہ سے پریشان ہوں۔"

رانیہ:
"ٹھیک ہے، میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔ لیکن ہمیں اس راز کا پتہ لگانا ہوگا۔"

رانیہ:
"میں نے سنا ہے کہ اولشیا میں ایک عقلمند بزرگ ہیں جنہیں چمونی بابا کہتے ہیں۔ شاید وہ اس بارے میں ہماری مدد کر سکیں۔"


راوی:
دوسری طرف، بلیک ویلی میں ایک خطرناک جادوگرنی یونالیسہ موجود تھی۔ وہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے لیے اسے اس لڑکی کو تلاش کرنا تھا جس کی گردن پر چیتے کا نشان تھا، اور یہ کام اسے زوہیا کی بیس سال کی عمر سے پہلے کرنا تھا۔

یونالیسہ:
"یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ابھی تک اس لڑکی کو تلاش نہیں کر سکی؟"

یونالیسہ:
"کوئی بھی مجھے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔"

ٹویا ٹویا:
"مجھے نہیں لگتا کہ آپ اسے اتنی آسانی سے تلاش کر پائیں گی۔"

یونالیسہ:
"کیا تم نے کچھ کہا؟"

ٹویا ٹویا:
"نہیں نہیں، میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ اگر آپ کوشش نہیں کریں گی تو اسے کیسے تلاش کریں گی؟"

یونالیسہ (ہنستے ہوئے):
"بہت خوب! اب تم ہی میرے لیے کوشش کرو گے۔"

یونالیسہ:
"جاؤ! تمہارے پاس تین دن ہیں۔ اس لڑکی کو تلاش کر کے میرے پاس لاؤ، ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی! میں آپ کا حکم پورا کروں گا۔"

ٹویا ٹویا (دل میں):
"یہ تو بہت اچھا ہے۔ خیال میں دیتا ہوں اور کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب میں اس لڑکی کو تلاش کر لوں گا تو بلیک فاریسٹ کا بادشاہ بن جاؤں گا۔"

یونالیسہ:
"کیا کہا؟ خوابوں کے بادشاہ؟"

(یونالیسہ اسے تھپڑ مار دیتی ہے۔)

یونالیسہ:
"یاد رکھو، اگر کام مکمل نہ ہوا تو میں تمہیں قربان کر دوں گی۔ یونالیسہ کسی پر رحم نہیں کرتی۔"

ٹویا ٹویا:
"جی عظیم جادوگرنی! میں اسے ضرور تلاش کر کے لاؤں گا۔"


راوی:
رات کو زوہیا ایک خوفناک خواب سے جاگ اٹھی۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی اور اردگرد دیکھا۔

زوہیا:
"رانیہ؟ رانیہ کہاں گئی؟"

زوہیا:
"رانیہ! اگر تم نے کسی کو اس راز کے بارے میں بتا دیا تو بہت بڑی مشکل ہو جائے گی۔"

زوہیا:
"میں اپنے خاندان کو اس سب سے دور رکھنا چاہتی ہوں۔"

راوی:
لیکن زوہیا کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے پراسرار نشان کا راز اب خطرے میں تھا، اور ایک خطرناک جادوگرنی اس کی تلاش میں نکل چکی تھی۔

جاری ہے...