Sunday, July 12, 2026

The Princess and the Secret Beast: Ep #1

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز

راوی:
کہانی کا آغاز ایک پراسرار اور اندھیری غار سے ہوتا ہے۔ غار کے اندر ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ایک خوفناک سیاہ چیتا گہری نیند میں سو رہا تھا۔ اچانک ایک خوبصورت لڑکی اس چیتے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

زوہیا (اپنے دل میں):
"یہ جگہ کتنی خوفناک ہے۔ میں یہاں کیسے پہنچ گئی؟ یہ غار، یہ اندھیرا اور میرے سامنے یہ خطرناک چیتا... آخر یہ سب کیا ہے؟"

زوہیا (ڈرتے ہوئے):
"مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ یہ جگہ میرے لیے محفوظ نہیں ہے۔"

(زوہیا آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتی ہے، لیکن اس کے قدموں کی آواز سے چیتا جاگ جاتا ہے۔)

زوہیا:
"آہ... نہیں!"

(چیتا غصے سے زوہیا کی طرف بڑھتا ہے اور اچانک زوہیا خوف سے چیخ اٹھتی ہے۔)

زوہیا:
"بچاؤ!"

(اچانک زوہیا کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ اپنے کمرے میں ہوتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔)

رانیہ:
"زوہیا! کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟ تم اتنی زور سے کیوں چیخیں؟"

زوہیا (سانس لیتے ہوئے):
"ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ بس ایک خواب تھا۔"

رانیہ:
"خواب؟ کیا وہی خواب تھا جو تمہیں بار بار آتا ہے؟"

زوہیا:
"ہاں، پھر وہی خواب۔ ایک اندھیری غار، ایک سیاہ چیتا اور ایک عجیب سا احساس... مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے۔"

رانیہ:
"زیادہ مت سوچو۔ شاید یہ صرف ایک خواب ہے۔ اب جلدی سے تیار ہو جاؤ، ورنہ ہم کالج کے لیے دیر کر دیں گے۔"

زوہیا:
"ٹھیک ہے، میں ابھی تیار ہوتی ہوں۔"


راوی:
دونوں لڑکیاں تیار ہو کر کالج پہنچیں۔ یہ زوہیا کا کالج میں پہلا دن تھا۔ وہ اور رانیہ کلاس روم کی طرف گئیں جہاں ان کی ٹیچر مس کن نے ان کا تعارف سب طلبہ سے کروایا۔

مس کن:
"بچو، آج ہماری کلاس میں دو نئی طالبات شامل ہوئی ہیں۔ یہ ہیں زوہیا اور رانیہ۔ امید ہے آپ سب ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔"

زوہیا:
"السلام علیکم، مجھے امید ہے کہ آپ سب کے ساتھ میرا وقت اچھا گزرے گا۔"

رانیہ:
"مجھے بھی خوشی ہے کہ میں اس کالج کا حصہ بن رہی ہوں۔"

راوی:
کلاس شروع ہو گئی، لیکن زوہیا کا دھیان پڑھائی میں نہیں تھا۔ وہ اب بھی اپنے خواب کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

زوہیا (اپنے دل میں):
"مجھے یہ خواب بار بار کیوں آتا ہے؟ آخر اس سیاہ چیتے کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا یہ صرف ایک خواب ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے؟"

زوہیا:
"کیا میری زندگی میں کوئی ایسی بات ہے جس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں؟"


راوی:
کلاس کے وقفے کے دوران رانیہ کو یاد آیا کہ وہ اپنی ایک چیز کلاس روم میں بھول آئی ہے۔

رانیہ:
"زوہیا، تم یہاں رکنا۔ میں ابھی کلاس سے اپنی چیز لے کر آتی ہوں۔"

زوہیا:
"ٹھیک ہے، میں یہیں انتظار کرتی ہوں۔"

(رانیہ کے جانے کے بعد تین سینئر لڑکیاں زوہیا کے پاس آتی ہیں۔ ان کے نام جیاک، چن جن اور ان کی لیڈر کم چن تھے۔)

کم چن:
"تو تم وہی لڑکی ہو جس نے پورے کالج میں ہلچل مچا دی ہے؟"

زوہیا:
"آپ لوگ کون ہیں؟ اور آپ مجھ سے اس طرح کیوں بات کر رہی ہیں؟"

چن جن:
"اتنی معصوم بننے کی کوشش مت کرو۔ پورے کالج میں اگر کوئی سب سے خوبصورت ہے تو وہ صرف کم چن ہے۔"

جیاک:
"ہاں، تمہیں آتے ہی سب کی توجہ ملنے لگی ہے، اور یہ ہمیں بالکل پسند نہیں۔"

زوہیا:
"مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ لوگ مجھ سے یہ سب کیوں کہہ رہی ہیں۔ خوبصورتی کسی مقابلے کا نام نہیں۔"

زوہیا:
"اور ویسے بھی میرے پاس فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ بہتر ہے آپ لوگ یہاں سے چلی جائیں۔"

کم چن (غصے میں):
"کیا؟ تم نے ابھی ہمیں جانے کے لیے کہا؟ تمہیں معلوم بھی ہے تم کس سے بات کر رہی ہو؟"

جیاک:
"کیا تم بھول گئی ہو کہ ہم تمہاری سینئرز ہیں؟ ہم سے اس لہجے میں بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟"

زوہیا:
"سینئر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو پریشان کریں۔ عزت سب کو دینی چاہیے۔"


(اسی وقت رانیہ واپس آ جاتی ہے۔)

رانیہ:
"کون ہے وہ بدتمیز شخص جو میری دوست کو پریشان کر رہا ہے؟"

کم چن (حیرت سے):
"رانیہ؟ تم یہاں؟"

رانیہ:
"ہاں، میں ہی ہوں۔ کوئی مسئلہ ہے؟"

زوہیا:
"رانیہ، کیا تم انہیں جانتی ہو؟"

کم چن:
"اسے کون نہیں جانتا؟ رانیہ کا نام تو پورے کالج میں مشہور ہے۔"

زوہیا:
"مشہور؟ لیکن کیوں؟"

جیاک:
"کیونکہ رانیہ کو کالج میں تباہی کا دوسرا نام کہا جاتا ہے۔"

رانیہ:
"دیکھو، میں لڑائی پسند نہیں کرتی، لیکن اگر کوئی میرے دوست کو پریشان کرے گا تو میں خاموش بھی نہیں رہوں گی۔"

رانیہ:
"تم لوگ زوہیا کے ساتھ کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں؟"

کم چن:
"ہم... ہم تو بس بات کر رہی تھیں۔"

رانیہ:
"اچھی بات اور تکلیف دینے والی بات میں فرق ہوتا ہے۔ آئندہ زوہیا سے دور رہنا۔"

رانیہ:
"اور یہ بات پورے کالج کو بتا دینا کہ زوہیا اکیلی نہیں ہے۔"

(رانیہ کے غصے کو دیکھ کر تینوں لڑکیاں ڈر جاتی ہیں اور وہاں سے چلی جاتی ہیں۔)


زوہیا:
"واہ رانیہ! تمہاری تو کالج میں بہت شہرت ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ تم بھی تو آج ہی میرے ساتھ کالج آئی ہو۔"

رانیہ (مسکراتے ہوئے):
"یہ ایک لمبی کہانی ہے۔"

زوہیا:
"مجھے سب جاننا ہے۔ آخر سب تم سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟"

رانیہ:
"چلو پہلے کینٹین چلتے ہیں، وہاں بیٹھ کر تمہیں سب بتاؤں گی۔"

زوہیا:
"ٹھیک ہے، لیکن وعدہ کرو کہ تم مجھے پوری کہانی سناؤ گی۔"

رانیہ:
"وعدہ ہے۔ آج تمہیں میرے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوگا۔"

راوی:
زوہیا اور رانیہ کینٹین کی طرف چل پڑیں، لیکن زوہیا کے دل میں اب بھی ایک سوال موجود تھا۔

"آخر وہ سیاہ چیتا کون تھا؟ اور بار بار آنے والے خواب کا راز کیا تھا؟"

جاری ہے...