Sunday, July 12, 2026

The Princess and the Secret Beast: Ep # 5

 زوہیا اور سیاہ چیتے کا راز: سیاہ چیتے کا بھید

راوی:
کہانی کا آغاز رانیہ کے گھبرا کر جاگنے سے ہوتا ہے۔ وہ خود کو ایک انجان جگہ پر دیکھتی ہے اور حیران ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے سوزاکی موجود ہے۔

رانیہ:
"میں کہاں ہوں؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"

سوزاکی:
"ارے، تم جاگ گئی ہو۔ اچھا ہوا! لیکن بتاؤ، زوہیا کہاں ہے؟"

رانیہ (حیرت سے):
"ایک منٹ... تم وہی ہو نا جس سے میری مقابلے میں ملاقات ہوئی تھی؟"

سوزاکی:
"اوہ! تو تم وہی بھوتنی ہو۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ چہرہ اتنا جانا پہچانا کیوں لگ رہا ہے۔"

رانیہ (غصے سے):
"کیا کہا؟ تم نے مجھے پھر بھوتنی کہا؟"

سوزاکی:
"میں نے تو بس پہچانا ہے۔"

(اچانک جنگل میں ایک خوفناک دھاڑ سنائی دیتی ہے۔)

رانیہ:
"یہ آواز کیسی ہے؟"

سوزاکی:
"یہ تو..."

(سوزاکی فوراً باہر کی طرف جاتا ہے۔ رانیہ بھی اس کے پیچھے جاتی ہے اور ایک سیاہ چیتے کو دیکھتی ہے۔)

رانیہ (خوفزدہ ہو کر):
"یہ چیتا تو بہت خطرناک لگ رہا ہے! ایسا لگتا ہے کئی دنوں سے بھوکا ہے۔ جلدی یہاں سے بھاگو!"

(رانیہ سوزاکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچتی ہے اور دروازہ بند کر دیتی ہے۔)

رانیہ:
"کیا تمہیں شکار بننے کا شوق ہے؟ کیا تم خود کو کوئی بڑا ہیرو سمجھتے ہو؟"

سوزاکی (مسکراتے ہوئے):
"میں یہاں کافی عرصے سے رہ رہا ہوں، اور وہ چیتا میرا دوست ہے۔"

رانیہ:
"کیا؟ چیتا تمہارا دوست ہے؟ تمہیں مذاق کرنے کے لیے کوئی اور نہیں ملا؟"

سوزاکی:
"اگر یقین نہیں تو خود دیکھ لو۔"

(سوزاکی باہر جاتا ہے۔ چیتا اسے نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اس کے پاس آتا ہے۔ سوزاکی اسے پیار کرتا ہے اور اس کے کان میں کچھ کہتا ہے۔ پھر وہ چیتے کی پشت پر بیٹھ جاتا ہے۔)

رانیہ (حیرت سے):
"یہ کیسے ممکن ہے؟"

سوزاکی:
"ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی نظر آتی ہے۔"

رانیہ:
"مجھے یقین نہیں آ رہا۔"

(آخرکار رانیہ بھی چیتے کے پاس جاتی ہے اور دونوں چیتے کے ساتھ جنگل کی سیر کرتے ہیں۔)


سیاہ چیتے کا راز

راوی:
رات ہو گئی۔ سوزاکی کھانے کا انتظام کرنے کے لیے چلا گیا، جبکہ رانیہ جنگل میں گھومتے ہوئے ایک چھوٹی سی غار تک پہنچ گئی۔

رانیہ:
"یہ غار یہاں کیسے ہے؟ شاید اندر کچھ راز چھپا ہوا ہے۔"

(اچانک رانیہ دیکھتی ہے کہ سیاہ چیتے کے جسم سے ایک روشنی نکل رہی ہے۔)

رانیہ:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

(چیتا آہستہ آہستہ ایک خوبصورت نوجوان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔)

رانیہ:
"یہ... یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک چیتا انسان کیسے بن سکتا ہے؟"

(حیرت اور خوف سے رانیہ بے ہوش ہو جاتی ہے۔)

(سوزاکی واپس آتا ہے۔)

سوزاکی:
"رانیہ! رانیہ! تم کہاں ہو؟"

(وہ اسے زمین پر بے ہوش دیکھتا ہے۔)

لیمن شاہ:
"اس نے مجھے اپنی اصل شکل میں دیکھ لیا ہے۔ اسی لیے یہ بے ہوش ہو گئی۔"


زوہیا یونالیسہ کے قبضے میں

راوی:
دوسری طرف زوہیا جادوگرنی یونالیسہ کی غار میں قید تھی۔ وہ آگ کے اوپر بندھی ہوئی تھی۔

زوہیا:
"یا خدا! میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟"

(زوہیا کی نظر یونالیسہ پر پڑتی ہے۔)

زوہیا:
"تم کون ہو؟ تم نے مجھے یہاں کیوں قید کیا ہے؟"

یونالیسہ:
"میں تمہارا انجام ہوں۔"

زوہیا:
"کیا مطلب؟ تم میرے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہو؟"

یونالیسہ:
"وقت آنے پر تمہیں سب معلوم ہو جائے گا۔"

(یونالیسہ زوہیا کو ٹویا ٹویا کے حوالے کر دیتی ہے۔)

زوہیا:
"براہِ کرم مجھے چھوڑ دو۔ مجھے جانے دو۔"

ٹویا ٹویا:
"کوئی تمہیں بچانے نہیں آئے گا۔ جتنا چاہو چیخ لو۔"

زوہیا:
"چھوٹے سے بھوت! مجھے چھوڑ دو۔ میں تمہیں جو چاہو دے دوں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"ہاں، میں چھوٹا ضرور ہوں، لیکن کیا تم مجھے بلیک فاریسٹ کا بادشاہ بنا سکتی ہو؟"

زوہیا:
"میں تمہاری مدد نہیں کر سکتی، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر کسی کی ایک خواہش ہوتی ہے۔"


بچاؤ کا عظیم مشن

راوی:
جب یونالیسہ زوہیا کو قربان کر کے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کا عمل شروع کرنے آتی ہے تو اچانک زوہیا کی گردن کا نشان روشن ہونے لگتا ہے۔

یونالیسہ:
"یہ کیا ہو رہا ہے؟ اس نشان سے روشنی کیوں نکل رہی ہے؟"

راوی:
اسی وقت لیمن شاہ اور سوزاکی بلیک ویلی پہنچتے ہیں۔ راستے میں انہیں خطرناک گدھوں اور جادوگنیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

(اچانک غار میں سفید دھواں پھیل جاتا ہے۔)

یونالیسہ:
"یہ کیا ہے؟ یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے؟"

یونالیسہ:
"ٹویا ٹویا! جاؤ اور معلوم کرو کہ میری غار میں داخل ہونے کی جرأت کس نے کی ہے۔"

رانیہ (دھویں میں چھپ کر):
"یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے؟ ہمیں جلدی زوہیا کو بچانا ہوگا۔"

(لیمن شاہ زوہیا کو آزاد کر دیتا ہے۔ سب وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔)

راوی:
صبح کی روشنی پھیلنے لگتی ہے۔ یونالیسہ اور اس کے ساتھی سورج کی روشنی برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے انہیں واپس جانا پڑتا ہے۔


محفوظ جگہ پر واپسی

راوی:
کچھ وقت بعد زوہیا ایک محفوظ گھر میں آنکھ کھولتی ہے۔

زوہیا:
"میں کہاں ہوں؟ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔"

زوہیا:
"مجھے اپنی امی کے پاس جانا ہے۔ یہ سب میری غلطی ہے۔ مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ میں تو مرنے والی تھی۔"

رانیہ:
"جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں، کوئی تمہیں چھو بھی نہیں سکتا، مارنا تو بہت دور کی بات ہے۔"

زوہیا:
"لیکن مجھے اغوا کر لیا گیا تھا اور تم وہاں کچھ نہیں کر سکیں۔"

رانیہ:
"ارے! یہ مت بھولو کہ میں ہی تمہیں وہاں سے نکالنے آئی تھی۔"

(زوہیا کی نظر سیاہ چیتے پر پڑتی ہے۔)

زوہیا:
"یہ چیتا... مجھے لگتا ہے میں اسے پہلے کہیں دیکھ چکی ہوں۔"

زوہیا:
"اس کی شکل میرے نشان جیسی ہے۔"

زوہیا (چیتے سے):
"تم ہی ہو نا؟ وہی جو میرے خوابوں میں آتے ہو؟"


سوزاکی اور رانیہ کی بات

راوی:
بعد میں سوزاکی رانیہ کے پاس آتا ہے۔

سوزاکی:
"ہم نے تمہیں گھر پر چھوڑا تھا۔ تم یہاں کیسے پہنچ گئیں؟"

سوزاکی:
"اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو..."

رانیہ (مسکرا کر):
"کیا تم میری فکر کر رہے تھے؟"

سوزاکی:
"نہیں... نہیں، میں بس... میرا مطلب تھا..."

رانیہ:
"میں نے تم دونوں کو منصوبے کے بارے میں بات کرتے سنا تھا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ لڑکیاں جنگ میں حصہ نہیں لے سکتیں؟"

(سوزاکی خاموشی سے وہاں سے چلا جاتا ہے۔)

رانیہ (دل میں):
"کیا واقعی اسے میری فکر ہے؟"


یونالیسہ کا عہد

راوی:
دوسری طرف بلیک ویلی میں یونالیسہ غصے سے بھری ہوئی تھی۔

یونالیسہ:
"کوئی بھی شخص جو میری وادی میں داخل ہوتا ہے، زندہ واپس نہیں جاتا۔"

یونالیسہ:
"انہوں نے میری طاقت مجھ سے چھین لی۔ میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔"

ٹویا ٹویا:
"آپ صرف باتیں کرتی ہیں۔ میں نے اتنی محنت سے اسے تلاش کیا اور آپ نے اسے جانے دیا۔"

یونالیسہ:
"خاموش رہو!"

یونالیسہ:
"مجھے وہ لڑکی چاہیے! جوجو، انہیں تلاش کرو!"

یونالیسہ:
"میں قسم کھاتی ہوں، میں ان کا خون بہائے بغیر آرام نہیں کروں گی۔"

یونالیسہ:
"میں شہزادی اور اس چیتے کو زندہ نہیں چھوڑوں گی!"

راوی:
زوہیا، لیمن شاہ اور ان کے دوستوں کے لیے اصل جنگ ابھی شروع ہوئی تھی۔

جاری ہے...